فرعون کا ظلم اور اللہ کا پیغام

فرعون کا ظلم اور اللہ کا پیغام: سورۃ القصص (آیات 1-4) سے اہم اسباق شیخ عبدالحفیظ صاحب کی بصیرت افروز تعلیمات کی روشنی میں

یہ مضمون جناب شیخ عبدالحفیظ صاحب کے دیے گئے درس پر مبنی ہے، جو جامع مسجد فرقان آباد گھٹ میں امام ہیں . اس مضمون کو ڈاکٹر توصیف اسلم نے تحریر کیا ہے۔

قرآن مجید کی سورتوں میں سورۃ القصص کو 28 ویں سورہ کا درجہ حاصل ہے اور نزول کے اعتبار سے یہ 49 ویں سورہ ہے۔ یہ ایک مکی سورت ہے اور سورہ فرقان، سورہ شعرا، اور سورہ نمل کے ساتھ اس میں خاص ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ اس سورت میں خاص طور پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قصہ بڑے تفصیلی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ قرآن پاک میں کئی مقامات پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ آتا ہے اور تمام انبیاء کرام میں سب سے زیادہ مرتبہ ان کا نام لے کر ذکر کیا گیا ہے۔ اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جن سخت حالات کا سامنا کرنا پڑا اور جو سختیاں برداشت کرنی پڑیں، وہ انتہائی شدید تھیں۔ ان واقعات کے ذریعے محمد عربی علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے ساتھیوں کو یہ بات بتائی جا رہی تھی کہ جس طرح موسیٰ علیہ السلام نے ہمت کر کے طوفان کا مقابلہ کیا، اللہ نے ان کی مدد کی، اسی طرح آپ کو بھی کرنا ہوگا۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حالات محمد عربی علیہ الصلوۃ والسلام کے مقابلے میں اس لیے زیادہ سخت تھے کہ موسیٰ علیہ السلام کا تعلق بنی اسرائیل سے تھا جن کے ساتھ انتہائی برا سلوک کیا جاتا تھا۔ جبکہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کو جس قوم کی طرف بھیجا گیا، وہ آپ کی اپنی قوم تھی یعنی قریش۔ مزید برآں، حضرت موسیٰ علیہ السلام کا سامنا ایک انتہائی متکبر، مغرور، اور سرکش انسان یعنی فرعون سے تھا۔ محمد عربی علیہ الصلوۃ والسلام کے اولین مخاطبین اپنی قوم کے افراد تھے۔

آپ اس درس سے متعلق مزید بصیرت کے لیے درج ذیل آڈیو سن سکتے ہیں:

تیسری اہم چیز یہ تھی کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو توحید کی دعوت کے ساتھ ساتھ بنی اسرائیل کی رہائی کا مطالبہ بھی کرنا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ اضافی ذمہ داری عائد کی تھی کہ وہ فرعون سے بنی اسرائیل کو رہا کر کے اپنے ساتھ بھیجنے کا مطالبہ کریں۔ محمد عربی علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ ایسی کوئی ذمہ داری نہیں تھی۔ چوتھی بات یہ کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا فرعون کے دربار میں مجرمانہ ریکارڈ تھا۔ وہ ایک قتل کے کیس میں وہاں مطلوب تھے۔ یہ چار ایسی چیزیں تھیں جو صاف بتا رہی ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کو جن حالات میں کام کرنا تھا، وہ انتہائی شدید اور سخت تھے۔ اس کے برعکس محمد عربی علیہ الصلوۃ والسلام کے بھی حالات سخت تھے، لیکن اتنے شدید نہیں تھے۔ اس قصے کا انجام بھی بتایا گیا کہ فرعون غرق ہوا اور موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو نجات ملی۔ اس میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے ساتھیوں کے لیے ایک سبق تھا کہ جس طرح موسیٰ علیہ السلام نے اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے ڈٹ کر مقابلہ کیا، تو اللہ نے ان کی مدد کی، اسی طرح اللہ تعالیٰ آپ کو بھی فتح اور کامیابی سے نوازے گا اور آپ کے دشمنوں کو مٹا دے گا۔

قرآن پاک میں بیان کیے گئے قصوں کا مقصد محض تاریخ سے واقفیت حاصل کرنا نہیں ہے۔ بلکہ ان میں ہمارے لیے ایک سبق ہوتا ہے کہ ہم اس وقت کیا کر سکتے ہیں اور کیا کرنا چاہیے تاکہ ہمیں کامیابی ملے۔ فرعون کون تھا؟ فرعون ایک لقب تھا جو مصر کے بادشاہوں کو دیا جاتا تھا، جس طرح ترک بادشاہوں کو خاقان، یمن کے بادشاہوں کو تبع، حبشہ کے بادشاہوں کو نجاشی، روم کے بادشاہوں کو قیصر اور ایران کے بادشاہوں کو کسریٰ کہا جاتا تھا۔ جس وقت موسیٰ علیہ السلام کو نبوت عطا کی گئی، اس وقت مصر کا بادشاہ رامس ثانی کا بیٹا مرن فتح تھا۔ یہ واقعہ تقریباً 1400 قبل مسیح کا ہے۔

اس سورت میں ہم پڑھیں گے کہ کس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے انہیں صندوق میں ڈال کر دریا میں بہایا اور وہ فرعون کے گھر پہنچے۔ بنی اسرائیل باہر کے لوگ تھے اور مصر میں ان کے ساتھ بہت برا سلوک کیا جاتا تھا۔ محل میں رہنے کے باوجود موسیٰ علیہ السلام اپنی شکل و صورت سے پہچانے جاتے تھے کہ وہ بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی والدہ کو وہاں پہنچا دیا تاکہ وہ انہیں اپنا دودھ پلائیں۔ ان کی والدہ نے بچپن سے ہی ان کے کانوں میں اور دل میں دین ابراہیمی (اسلام) کی دعوت ڈال دی تھی۔ جب موسیٰ علیہ السلام جوان ہوئے، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم اور علم عطا کیا۔ علم وہ ہے جو آپ جانتے ہیں، جبکہ حکمت وہ ہے جب آپ اس علم پر عمل بھی کریں۔ مثال کے طور پر، ہر شخص جانتا ہے کہ سگریٹ نوشی صحت کے لیے نقصان دہ ہے، یہ علم ہے۔ لیکن اگر کوئی یہ جاننے کے باوجود سگریٹ نوشی کرتا ہے تو گویا اس کے پاس علم تو ہے لیکن حکمت نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو حکمت اور علم دونوں عطا کیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ احسان کرنے والوں کو اسی طرح جزاء دیتے ہیں۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام شہر میں اس وقت داخل ہوئے جب لوگ غافل تھے، یعنی دوپہر کی سخت گرمی میں آرام کر رہے تھے۔ مفسرین اسے قیلولہ کا وقت کہتے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام اس وقت بازاروں میں نکلتے تھے تاکہ کسی مشکل میں مبتلا شخص کی مدد کر سکیں۔ اسی دوران ایک مرتبہ آپ نے دیکھا کہ دو آدمی آپس میں لڑ رہے ہیں، ایک آپ کی قوم کا فرد تھا اور دوسرا قبطی۔ جب موسیٰ علیہ السلام نے قبطی کو مکا مارا تو وہ فوراً مر گیا۔ موسیٰ علیہ السلام کے منہ سے فوراً یہ الفاظ نکلے کہ “یہ شیطانی کام ہے”۔ انہوں نے ایسا اس لیے کہا کہ انہیں احساس ہوا کہ انہوں نے جلد بازی میں کام کیا ہے اور جلد بازی والا کام شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔ انہوں نے تحقیق نہیں کی کہ کس کی غلطی تھی، بلکہ فوراًاپنی قوم کے فرد کو بے قصور سمجھ لیا۔ ہمیں بھی اپنی غلطی کا فوراًاعتراف کرنا چاہیے اور اللہ سے معافی مانگنی چاہیے۔ موسیٰ علیہ السلام کو بڑا بلند مقام حاصل تھا، وہ لوگوں کی مدد کے لیے نکلتے تھے۔ ہمیں بھی اس واقعے کے ذریعے یہ سبق ملتا ہے کہ ہم احسان کرنے والے اور نیکوکار بنیں کیونکہ اللہ تعالیٰ محسنین سے محبت کرتا ہے۔

آپ اس درس کو دیکھنے کے لیے درج ذیل یوٹیوب ویڈیو کا لنک ملاحظہ کر سکتے ہیں:

قارون کے پاس بے پناہ دولت تھی اور وہ اپنی محنت، قابلیت اور ہوشیاری کا دعویٰ کرتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ کیا کیا؟ اسے زندہ زمین میں دھنسا دیا۔ لہٰذا ہمیں مادیت پرستی سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ہم اکثر اہم کاموں کو، جیسے نماز یا قرآن کی تلاوت کو، پیسوں کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ سورت ہمیں مادیت پرستی کے بارے میں بھی سکھاتی ہے۔

آیات کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا گیا کہ “تلک آیات الکتاب المبین” کا مطلب ہے یہ واضح کتاب کی آیات ہیں۔ یعنی ایسی کتاب کی آیات جنہیں سمجھنے میں کوئی دقت نہیں، جو بالکل واضح اور صاف ہیں۔ “نتلوا علیک من نبا موسی و فرعون بالحق” یعنی ہم آپ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم) کو موسیٰ اور فرعون کا واقعہ ٹھیک ٹھیک سناتے ہیں۔ یہ اس لیے کہا گیا کیونکہ تورات اور انجیل میں اس انداز سے موجود نہیں تھا۔ یہ آیات کن لوگوں کے لیے ہیں؟ “لقوم یومنون” یعنی ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں۔ یعنی جو سمجھتے ہیں کہ واقعی یہ اللہ کی کتاب ہے اور اس میں درج بات سچی ہے، انہی کو ان آیات سے فائدہ پہنچنے والا ہے۔

فرعون نے مصر میں سرکشی اور تکبر کیا۔ اس نے ملک کے باشندوں کو الگ الگ کر دیا اور انہیں کمزور کر رکھا تھا۔ خاص طور پر بنی اسرائیل کو۔ فرعون اور اس کی قوم (قبطی) حکمران طبقہ تھے، جبکہ بنی اسرائیل محکوم۔ فرعون بنی اسرائیل کے بیٹوں کو ذبح کرتا تھا اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دیتا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ نجومیوں نے اسے بتا رکھا تھا کہ بنی اسرائیل میں ایک بیٹا پیدا ہونے والا ہے جو اس فرعون کے زوال کا باعث بنے گا اور جس کے ہاتھوں وہ غرق ہوگا۔ فرعون نے اس تدبیر سے اپنی تقدیر کو روکنے کی کوشش کی۔ اس نے عورتوں کو جاسوس بنایا تاکہ وہ اطلاع دیں کہ کس گھر میں بیٹا پیدا ہوا ہے۔ اس درس کے ذریعے ہمیں اللہ سے دعا کرنی چاہیے کہ وہ ہمیں ان ہدایات سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے اور قرآن پاک کو سمجھنے اور اس سے محبت کرنے کی رغبت ہمارے دل میں پیدا کرے۔ آمین۔

WhatsApp Group Join Now
Telegram Group Join Now
Instagram Group Join Now

اپنا تبصرہ بھیجیں