The Journey from Unrest to Tranquility

بے چینی سے سکون تک کا سفر (The Journey from Unrest to Tranquility)

انسانی زندگی بسا اوقات ایک ایسے تلاطم خیز سمندر کی مانند ہو جاتی ہے جہاں موجوں کی سرکشی اور حوادث کی تندی انسان کے سفینہِ حیات کو بے بس کر دیتی ہے۔ ہم میں سے ہر شخص اپنی زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر اس مقامِ حیرت سے ضرور گزرتا ہے جسے فلسفہ و نفسیات کی زبان میں “وجود کا بحران” (Existential Crisis) کہا جاتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان کے گرد بنے ہوئے تمام مادی سہارے ریت کی دیوار ثابت ہوتے ہیں اور وہ خود کو ایک ایسی اندھیری سرنگ میں پاتا ہے جہاں سے واپسی کا راستہ مسدود اور آگے کی منزل مہم و غبار آلود ہوتی ہے۔

موسیٰ علیہ السلام کی زندگی کا یہ درخشاں باب محض ایک قدیم داستان نہیں، بلکہ تاقیامت بھٹکنے والے انسانوں کے لیے ایک ایسا “نقشہِ راہ” ہے جو ہمیں سکھاتا ہے کہ جب انسانی تدبیریں دم توڑ دیتی ہیں، تو وہاں سے اللہ کی تدبیر (Divine Strategy) کا ظہور ہوتا ہے۔ چشمِ تصور سے دیکھیے کہ ایک وہ شہزادہ جس کی پرورش مصر کے عالی شان محلات میں ہوئی، جس کے ایک اشارے پر سلطنتِ فرعون کے غلام سر تسلیم خم کرتے تھے، وہ اچانک تقدیر کے ایک ایسے موڑ (Turning Point) پر کھڑا ہے جہاں وہ خود کو ایک مفرور اور بے خانماں مسافر کے روپ میں پاتا ہے۔

یہ سفر جو مصر کی گلیوں میں ایک خوف اور اضطراب سے شروع ہوا، مدین کے کنویں پر جاکر ایک ایسے سکونِ قلب میں بدل گیا جس نے انسانیت کو بندگی کے نئے قرینے سکھائے۔ اس مطالعے میں ہم محض تاریخی واقعات کا اعادہ نہیں کریں گے، بلکہ موسیٰ علیہ السلام کے اس “انجان سفر” کی تہوں میں چھپے ہوئے ان آفاقی اسباق کو تلاش کریں گے جو آج کے دور کے مضطرب انسان کو “الٰہی تدبیر” پر یقینِ کامل کی دعوت دیتے ہیں۔ یہ تحریر ان لوگوں کے لیے ایک مرہم ہے جو زندگی کی دوڑ میں تھک چکے ہیں اور اپنے رب کی طرف سے کسی “خیر” کے منتظر ہیں۔

——————————————————————————–

1. حق اور پہچان: قبتی اور سبطی کا فرق (The Distinction of Identity: Qibti vs. Sibti)

قدیم مصر کی سرزمین اس وقت ایک گہرے سماجی اور نسلی تضاد کا شکار تھی۔ وہاں کی آبادی دو واضح طبقات میں منقسم تھی۔ ایک طرف “قبتی” تھے—وہ قدیم مصری جو صاحبِ اقتدار تھے، جن کے پاس دولت، اختیار اور سماجی برتری تھی۔ دوسری طرف “سبطی” تھے—یعنی بنی اسرائیل، جو حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد تھے اور فرعون کی استبدادی حکومت کے زیرِ اثر غلامی کی زندگی گزار رہے تھے۔ یہ “شناختی سیاست” (Identity Politics) اور “نظامی جبر” (Systemic Oppression) کی ایک بدترین مثال تھی جہاں انسان کی قدر اس کے تقویٰ سے نہیں بلکہ اس کے حسب و نسب سے طے ہوتی تھی۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ابتدائی زندگی
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ابتدائی زندگی

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پرورش اگرچہ فرعون کے محل میں ہوئی تھی، لیکن ان کے سینے میں ایک “سبطی” دل دھڑکتا تھا جو حق و باطل کی تمیز سے سرشار تھا۔ جب انہوں نے ایک قبتی اور سبطی کو لڑتے دیکھا، تو یہ محض دو افراد کا تصادم نہیں تھا بلکہ یہ ظالم اور مظلوم کے درمیان ایک ٹکراؤ تھا۔ یہاں قرآنِ کریم ایک اہم وضاحت کرتا ہے جو دیگر سابقہ کتب (Bible/Talmud) میں موجود نہیں؛ تورات اور تلمود کے مطابق لڑنے والے دونوں افراد اسرائیلی تھے، لیکن قرآن نے یہ واضح کیا کہ جھگڑا ایک حکمران طبقے (قبتی) اور ایک محکوم (سبطی) کے درمیان تھا۔

موسیٰ علیہ السلام نے جب مظلوم کی حمایت میں ہاتھ اٹھایا تو ایک غیر ارادی گھونسے سے قبتی ہلاک ہو گیا۔ اس مقام پر موسیٰ علیہ السلام کا ردعمل ان کی بلند اخلاقی قدروں کا عکاس ہے۔ انہوں نے اسے “شیطانی عمل” قرار دیا اور فوراً اپنے رب کے حضور ‘مغفرت’ طلب کی۔ یہاں ‘مغفرت’ کا لفظ اپنے دامن میں دو گہرے معنی رکھتا ہے: پہلا گناہ کی معافی اور دوسرا معاملے کی پردہ پوشی۔ انہوں نے دعا کی کہ “اے میرے رب، میری اس خطا کو لوگوں کی نظروں سے چھپا دے اور مجھے معاف فرما دے۔” اللہ تعالیٰ نے ان کی پکار کو شرفِ قبولیت بخشا اور اس ویران مقام پر کوئی ایسا گواہ موجود نہ رہا جو فوراً مخبری کر کے انہیں تختہِ دار تک پہنچا دیتا۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ جب انسان اپنی خطا کا اعتراف کر کے اللہ کی پناہ مانگتا ہے، تو اللہ اس کی عیب پوشی کا انتظام فرماتا ہے۔

——————————————————————————–

2. مجرموں کی حمایت سے دستبرداری کا عہد (Ethical Integrity: The Vow of Non-Cooperation)

جب موسیٰ علیہ السلام نے محسوس کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے عیب کو ڈھانپ لیا ہے اور انہیں فرعونی کارندوں کی گرفت سے فی الحال بچا لیا ہے، تو ان کے قلبِ منور سے ایک ایسا عہد نکلا جو رہتی دنیا تک حق پرستوں کا شعار بن گیا۔ انہوں نے فرمایا: “اے میرے رب! جیسا کہ تو نے مجھ پر انعام کیا، اب میں ہرگز مجرموں کا مددگار (Zahira-lil-Mujrimien) نہیں بنوں گا۔”

یہ محض ایک جملہ نہیں تھا، بلکہ ایک سیاسی اور اخلاقی اعلانِ لاتعلقی (Dissociation) تھا۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ اسی لمحے موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے محل، اس کے شاہی جاہ و جلال اور اس کے ظالمانہ نظام سے اپنا ناطہ توڑ لیا۔ انہوں نے یہ اصول وضع کیا کہ “کسی مجرم کی کسی بھی طور مدد کرنا، اسے جرم پر اکسانے اور اس کے ظلم میں شریک ہونے کے مترادف ہے” (Complicity in Oppression)۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ایک انسان کی “اخلاقی سالمیت” (Ethical Integrity) کا امتحان ہوتا ہے۔

اس نکلے ہوئے عہد کی فقہی اور اخلاقی اہمیت کو واضح کرنے کے لیے تاریخِ اسلام کے دو عظیم واقعات کا تذکرہ ناگزیر ہے۔ امام عطا بن ابی رباح سے جب ایک شخص نے پوچھا کہ کیا وہ بنی امیہ کے دور میں کوفہ کے گورنر کا سیکرٹری بن سکتا ہے، جبکہ اس کا کام صرف گورنر کے احکامات کو قلمبند کرنا ہے، تو انہوں نے اسی آیتِ مبارکہ کی تلاوت فرمائی۔

حضرت عطا بن ابی رباح نے فرمایا: “جو شخص مجرم کی کسی بھی طور اعانت کرتا ہے، وہ اس کے ظلم میں برابر کا شریک ہے۔ اگر تمہارا قلم ظالم کے حق میں فیصلے لکھ رہا ہے، تو تم بھی اسی صف میں کھڑے ہو۔

اسی طرح امام اعظم ابو حنیفہؒ نے خلیفہ منصور کے دور میں قضا کا عہدہ محض اس لیے مسترد کر دیا کیونکہ وہ کسی ایسے نظام کا آلہِ کار نہیں بننا چاہتے تھے جو عدل کے لبادے میں ظلم کو پروان چڑھا رہا ہو۔ یہ سبق ہمیں دعوتِ فکر دیتا ہے کہ کیا ہم اپنے پیشوں، اپنی ملازمتوں یا اپنی زبانوں سے کسی ایسے نظام یا فرد کی آبیاری تو نہیں کر رہے جو انسانیت کے لیے ناسور بن چکا ہے؟

——————————————————————————–

3. فتنہ پروری کی حقیقت: ‘رشد’ بمقابلہ ‘غی’ (The Toxicity of Chronic Troublemakers)

اگلے دن جب موسیٰ علیہ السلام دوبارہ شہر میں داخل ہوئے تو انہوں نے ایک عجیب منظر دیکھا۔ وہی اسرائیلی شخص جس کی خاطر انہوں نے کل اپنی زندگی داؤ پر لگائی تھی، آج پھر کسی اور مصری سے الجھ رہا تھا اور موسیٰؑ کو دہائی دے رہا تھا۔ یہاں موسیٰ علیہ السلام نے ایک ایسی حقیقت کو پا لیا جو انسانی نفسیات کا ایک تاریک پہلو ہے۔ انہوں نے اس شخص کو دیکھ کر فرمایا: “بے شک تو کھلا گمراہ ہے” (In-naka la-ghawiyyun mubeen)۔

یہاں لفظ ‘غوی’ استعمال ہوا ہے جو ‘غی’ سے نکلا ہے۔ عربی لغت میں ‘رشد’ ہدایت اور خیر کی طرف میلان کو کہتے ہیں، جبکہ ‘غی’ اس کجی، ضد اور فتنہ پروری کو کہتے ہیں جو انسان کو بار بار مصیبتوں میں دھکیلتی ہے۔ بعض لوگ فطرتاً “دائمی فتنہ پرور” (Chronic Troublemakers) ہوتے ہیں۔ وہ اپنی نادانی اور شر پسندی سے نہ صرف خود ہلاک ہوتے ہیں بلکہ اپنے محسنوں کو بھی رسوا کرتے ہیں۔

موسیٰ علیہ السلام کا یہ مشاہدہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اندھی حمیت اور جذباتی وابستگی ہمیشہ نقصان دہ ہوتی ہے۔ حق کا ساتھ دینے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ اپنی قوم کے ہر مفسد اور جھگڑالو فرد کے پیچھے کھڑے ہو جائیں۔ بعض اوقات جس ہاتھ کو ہم سہارا دینے کے لیے تھامتے ہیں، وہی ہاتھ ہمیں بدنامی کی دلدل میں کھینچنے کا سبب بنتا ہے۔ یہ ایک “زہریلا تعلق” (Toxic Relationship) تھا جسے موسیٰ علیہ السلام نے بروقت پہچان لیا۔

——————————————————————————–

4. راز کا افشا ہونا اور انسانی کمزوری (The Irony of Betrayal: When the Tongue Slips)

جیسے ہی موسیٰ علیہ السلام اس جھگڑے کو ختم کرانے کے لیے آگے بڑھے اور اس قبتی کو پکڑنا چاہا جو اس اسرائیلی کا حریف تھا، تو وہ اسرائیلی شخص—جس کے ذہن پر اپنی گزشتہ دن کی خطا سوار تھی—خوفزدہ ہو گیا۔ اسے لگا کہ شاید موسیٰؑ اسے مارنے آ رہے ہیں کیونکہ انہوں نے ابھی اسے ‘گمراہ’ کہا تھا۔ اپنی بزدلی اور جان بچانے کی ہوس میں اس نے وہ راز اگل دیا جو اب تک مصر کے ایوانوں میں ایک معمہ بنا ہوا تھا: “اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی ویسے ہی قتل کرنا چاہتے ہو جیسے کل تم نے ایک شخص کو کیا تھا؟”

یہ انسانی کمزوری کا وہ مقام ہے جہاں “اپنا” ہی “غیر” سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ جس شخص کی مدد کے لیے موسیٰ علیہ السلام نے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیا تھا، اسی کی ایک “زبان کی لغزش” نے موسیٰؑ کو فرعون کی نظروں میں ایک باقاعدہ قاتل اور باغی ثابت کر دیا۔ اس شخص نے موسیٰؑ کو ‘جبار’ (ظلم کرنے والا) کہہ کر پکارا، جو کہ فرعون کے لیے مخصوص لقب تھا۔ یہ ایک عبرت ناک سبق ہے کہ راز کی حفاظت وہی کر سکتا ہے جو کردار کا مضبوط ہو۔ بعض اوقات ہماری سب سے بڑی طاقت (ہماری ہمدردی) ہماری سب سے بڑی کمزوری بن جاتی ہے جب ہم نااہل لوگوں پر بھروسہ کرتے ہیں۔

——————————————————————————–

5. شہر کے دور دراز کونے سے آنے والا خیر خواہ (Underground Resistance: The Strategic Warning)

جب موسیٰ علیہ السلام کے خلاف گرفتاری اور قتل کے وارنٹ جاری ہو رہے تھے اور فرعون کے دربار میں ان کے وجود کو مٹانے کے مشورے ہو رہے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے غیب سے ایک انتظام فرمایا۔ قرآن کہتا ہے کہ “شہر کے پرلے سرے سے ایک شخص دوڑتا ہوا (Yas’aa) آیا۔” لفظ ‘یسعیٰ’ میں جو تڑپ، اضطراب اور مخلصی چھپی ہے، وہ اس شخص کی محبت کی گواہی دیتی ہے۔ وہ ڈر رہا تھا کہ کہیں اس کے پہنچنے سے پہلے ظالم کے ہاتھ موسیٰؑ کے گریبان تک نہ پہنچ جائیں۔

مفسرین کے نزدیک یہ وہی “مومنِ آلِ فرعون” تھا جس نے اپنا ایمان چھپا رکھا تھا اور جو شاہی دربار کے اندرونی معاملات سے واقف تھا۔ یہ “خفیہ مزاحمت” (Underground Resistance) کی ایک کلاسیکی مثال ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ظالم کے اپنے ہی گھر میں ایک ایسا “سلیپر ایجنٹ” (Sleeper Agent) پیدا کر دیا تھا جو حق کا پرستار تھا۔ اس نے آ کر ایک “تزویراتی انتباہ” (Strategic Warning) دیا: “اے موسیٰ، سردار تمہارے قتل کا مشورہ کر رہے ہیں، لہٰذا فوراً نکل جاؤ۔”

یہ سبق ہمیں سکھاتا ہے کہ جب پورا معاشرہ ظلم کی چھتری تلے دب جائے، تب بھی کچھ نفوسِ قدسیہ ایسے ہوتے ہیں جو مصلحتوں کی چادر اوڑھ کر حق کی آبیاری کرتے ہیں۔ اللہ کی مدد ہمیشہ آسمان سے فرشتوں کی صورت میں نہیں آتی، بلکہ کبھی کبھی وہ آپ کے دشمن کے کیمپ میں بیٹھے کسی ہمدرد کے روپ میں بھی نمودار ہوتی ہے۔

——————————————————————————–

6. ہجرت اور 825 کلومیٹر کا تنہا سفر (825 Kilometers of Faith: The Physical and Spiritual Desert)

مصر کی حدود سے نکلتے ہوئے موسیٰ علیہ السلام کی کیفیت ایک ایسے مسافر کی تھی جس کے پاس نہ کوئی زادِ راہ تھا، نہ سواری اور نہ ہی منزل کا نقشہ۔ وہ “خوف اور انتظار” (Khauf wa Intizar) کی ملی جلی کیفیت میں دائیں بائیں دیکھتے ہوئے روانہ ہوئے۔ ان کا رخ ‘مدین’ کی طرف تھا جو مصر سے تقریباً 825 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تھا۔

پیدل چلنے والے کے لیے یہ آٹھ سے دس دن کی ایک ایسی مسافت تھی جو آگ برساتے ہوئے ریگستانوں اور پتھریلی وادیوں سے گزرتی تھی۔ مفسرین بیان کرتے ہیں کہ اس طویل سفر میں ان کے پاس کھانے کو کچھ نہ تھا؛ انہوں نے درختوں کے پتے اور خشک جھاڑیاں کھا کر پیٹ کی آگ بجھائی۔ پیروں میں چھالے پڑ گئے، جسم دھوپ سے جھلس گیا، لیکن دل میں ایک ہی دعا تھی: “اے میرے رب! مجھے ظالموں سے نجات دے اور مجھے سیدھا راستہ (Sawa-as-Sabeel) دکھا دے۔”

یہ 825 کلومیٹر کا سفر محض ایک جغرافیائی فاصلہ نہیں تھا، بلکہ یہ ایک “روحانی ارتقا” کا مرحلہ تھا۔ مصر کے محلوں کی راحتوں سے نکل کر صحرا کی سختیوں تک کا یہ سفر موسیٰ علیہ السلام کو اس ‘کمال’ کی طرف لے جا رہا تھا جہاں سے ‘کلامِ الٰہی’ کا آغاز ہونا تھا۔ جب انسان تمام دنیاوی سہاروں کو پیچھے چھوڑ کر تنہا صحرا کی خاک چھانتا ہے، تبھی اسے اپنی “حقیقی فقیری” کا ادراک ہوتا ہے۔ یہ “وجود کا خلا” ہی دراصل اللہ کی معرفت کا پہلا زینہ ہے۔

——————————————————————————–

7. مدین کا کنواں اور حیا کا درس (Chivalry at the Well: The Ethics of Social Interaction)

جب موسیٰ علیہ السلام مدین کے کنویں پر پہنچے، تو وہاں کا منظر ایک “سماجی بگاڑ” کی عکاسی کر رہا تھا۔ طاقتور چرواہے اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے تھے، جبکہ دو خواتین اپنی بکریوں کو روکے ہوئے ایک طرف خاموش کھڑی تھیں۔ موسیٰ علیہ السلام، جو کئی دنوں کے سفر سے چور تھے اور جن کے بدن میں رمق بھر طاقت نہ تھی، ان کی “جوانمردی” (Chivalry) تڑپ اٹھی۔ انہوں نے اپنی نقاہت کو بالائے طاق رکھ کر پوچھا: “تمہارا کیا معاملہ ہے؟”

ان خواتین کا جواب حیا اور خاندانی وقار کا آئینہ دار تھا: “ہم اس وقت تک پانی نہیں پلاتیں جب تک یہ چرواہے یہاں سے ہٹ نہ جائیں، اور ہمارے والد ایک بوڑھے شخص (Sheikh-e-Kabeer) ہیں۔” اس ایک جملے نے واضح کر دیا کہ وہ کسی شوق سے نہیں بلکہ مجبوری کے تحت باہر آئی ہیں کیونکہ گھر میں کوئی جوان مرد موجود نہیں۔

موسیٰ علیہ السلام نے کسی صلے کی پرواہ کیے بغیر ان کا کام کر دیا۔ یہ “بے غرض خدمت” (Sincerity) کا وہ نمونہ ہے جو ہر مردِ مومن کا خاصہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ میں خود ایک مفرور ہوں، بلکہ انہوں نے دیکھا کہ دو کمزور عورتیں مردوں کے اس ہجوم میں دھکم پیل کا شکار ہو رہی ہیں۔ انہوں نے خاموشی سے ان کے جانوروں کو سیراب کیا اور ثابت کیا کہ “غیرت” اور “حمیت” تھکاوٹ کی محتاج نہیں ہوتی۔

——————————————————————————–

8. فقیر کی دعا: بے بسی میں بندگی کا اظہار (The Prayer of the Destitute: Spiritual Poverty)

کام مکمل کرنے کے بعد موسیٰ علیہ السلام نے ان خواتین سے شکریہ کا ایک لفظ بھی طلب نہ کیا، بلکہ وہ پلٹے اور ایک سائے (Zil) کے نیچے جا بیٹھے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخِ انسانی کی وہ عظیم دعا مانگی گئی جو ہر ضرورت مند کا سہارا بن گئی:

رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ (اے میرے رب! جو بھلائی (خیر) بھی تو میری طرف نازل فرمائے، میں اس کا محتاج/فقیر ہوں)

غور کیجیے کہ وہ شہزادہ جس کے دسترخوان پر مصر کی نعمتیں چنی ہوتی تھیں، آج خود کو ‘فقیر’ (Destitute) کہہ رہا ہے۔ یہاں لفظ ‘فقیر’ سے مراد صرف مالی تہی دستی نہیں بلکہ “سوزِ دروں” اور اللہ کے سامنے اپنی کلی بے بسی کا اعتراف ہے۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ “مجھے روٹی دے” یا “مجھے گھر دے”، بلکہ لفظ ‘خیر’ استعمال کیا، یعنی “اے اللہ! تو بہتر جانتا ہے کہ میرے لیے اس وقت کیا بھلا ہے، میں تیرے ہر فیصلے کا محتاج ہوں۔” یہ دعا “توکل” کی معراج اور “رزقِ الٰہی” (Divine Provision) پر مکمل یقین کا اظہار ہے۔ جب انسان خود کو اللہ کے در کا فقیر بنا لیتا ہے، تو کائنات کی تمام وسعتیں اس کے لیے رزق کے دروازے کھول دیتی ہیں۔

——————————————————————————–

9. حیا کی چال اور پاکیزہ ملاقات (The Walk of Modesty: Safura and the Invitation)

اللہ کی تدبیر نے فوراً حرکت کی۔ وہی خواتین جن کی موسیٰؑ نے مدد کی تھی، گھر پہنچیں اور اپنے والد (جنہیں اکثر مفسرین نے حضرت شعیبؑ قرار دیا ہے) کو سارا ماجرا سنایا۔ ان میں سے ایک بیٹی، جس کا نام ‘صفورا’ بتایا جاتا ہے، واپس موسیٰؑ کی طرف آئی۔ قرآن نے اس کے آنے کی منظر کشی ان الفاظ میں کی ہے: “تمشی علی استحیائ” (وہ حیا کے ساتھ چلتی ہوئی آئی)۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تفسیر میں ایک نہایت لطیف نکتہ بیان فرمایا۔ انہوں نے کہا کہ “وہ لڑکی کوئی ڈھٹائی سے چلتی ہوئی نہیں آئی تھی، بلکہ اس نے اپنی آستین سے اپنے چہرے کو ڈھانپ رکھا تھا اور اس کی چال میں ایک پاکیزہ جھجھک تھی۔” یہ “حیا” (Modesty) کی وہ صفت ہے جو معاشرے میں خواتین کے وقار کو بلند کرتی ہے۔ اس نے آ کر نہایت باادب انداز میں پیغام دیا: “میرے والد آپ کو بلاتے ہیں تاکہ آپ کو اس کام کی اجرت دیں جو آپ نے ہمارے لیے کیا۔”

یہاں سے موسیٰ علیہ السلام کی زندگی کا ایک نیا باب شروع ہوا۔ ایک اجنبی مسافر کو نہ صرف چھت ملی، بلکہ ایک عظیم پیغمبر کی شاگردی اور رفاقت میسر آئی۔ وہ خوف جو مصر سے ان کے ساتھ چلا تھا، مدین کی اس پاکیزہ محفل میں آکر امن میں بدل گیا۔ حضرت شعیبؑ نے فرمایا: “لا تخف” (ڈرو نہیں)، تم نے ظالموں سے نجات پا لی ہے۔

——————————————————————————–

قصص سے سبق تک (The Grand Design: From Stories to Lessons)

سورہ کا نام ‘القصص’ (کہانیاں) اس لیے رکھا گیا ہے کیونکہ اس میں زندگی کے پراگندہ واقعات کو اللہ کی حکمت کی تسبیح میں پرو دیا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی کا یہ سفر ہمیں سکھاتا ہے کہ “الٰہی تدبیر” (Divine Strategy) اکثر آزمائشوں کے لبادے میں آتی ہے۔ مصر کا چھوٹنا، صحرا کی ٹھوکریں، بھوک، پیاس اور تنہائی—یہ سب اس “عظیم منصوبے” (Grand Design) کا حصہ تھے تاکہ موسیٰؑ کو اس مقام تک پہنچایا جائے جہاں ان کی شادی ہونی تھی، جہاں انہیں آٹھ سے دس سال کی ایک ایسی تربیت ملنی تھی جو شاہی محلات میں ناممکن تھی، اور جہاں سے واپسی پر انہیں ‘کلیم اللہ’ کے منصبِ عظیم پر فائز ہونا تھا۔

آج اگر آپ اپنی زندگی میں کسی “بحران” کا شکار ہیں، اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی محنت رائیگاں جا رہی ہے اور آپ کسی “انجان سفر” پر تنہا کھڑے ہیں، تو یاد رکھیے کہ آپ کا رب آپ کے لیے ایک “مدین” تیار کر رہا ہے۔ ہر مشکل کے پیچھے ایک الٰہی مقصد چھپا ہوتا ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم موسیٰؑ کی طرح اپنی “فقیری” کا اعتراف کریں، مجرموں کی حمایت سے دستبردار ہوں، اور حیا و دیانت کے راستے پر چلتے ہوئے اپنے رب کی “خیر” کے منتظر رہیں۔ آپ کی ہجرت آپ کو آپ کی منزلِ مقصود تک لے جانے کا پہلا زینہ ہے۔ کیا آپ تیار ہیں اپنے “مصر” کو چھوڑ کر اللہ کی تدبیر پر بھروسہ کرنے کے لیے؟

WhatsApp Group Join Now
Telegram Group Join Now
Instagram Group Join Now

اپنا تبصرہ بھیجیں