امت مسلمہ کا حقیقی مقام | ایک تجزیہ مولانا نعیم الدین اصلاحی کا

امت مسلمہ کا حقیقی مقام ایک تجزیہ


امت مسلمہ
امت مسلمہ


مولانا نعیم الدین اصلاحی

عصر حاضر اپنی مادی تر قیات اور علمی انکشافات کے میدان میں گذشتہ ادوار کے مقابلے میں بہت دور نکل چکا ہے مگر اس کے باوجودانسانیت امن وسکون کے لیے ترس رہی ہے اور جس ملک اور جس قوم نے بھی مادی خوشحالی میں ترقی کی ہے اسی تناسب سے ذہنی سکون اورقلبی اطمینان سے محروم ہے اور ایک معمولی انسان بھی جس کے اندر کچھ بھی عقل وخر دموجود ہے صاف دیکھ رہا ہے کہ تنہا مادی خوشحالی کے بس میں نہیں ہے کہ انسان کو سکون وراحت،فلاح وسعادت سے ہمکنار کر سکے ۔

 

دوستو  جہاں تک مغربی افکار ونظریات اور اس کی تہذیب وتمدن کی بات ہے اس سے دنیا مایوس ہو چکی ہے کیونکہ وہی ملحدانہ تہذیب ہی تو ہے جس نے انسانیت کو اس مقام تک پہنچایا ہے اور نہ مشرق کی مشرکانہ تہذیب سے ہی کسی قسم کی سعادت ،فلاح اور خیر کی توقع رکھی جاسکتی ہے کیونکہ کسی بھی مشر کا نہ تہذیب کے اندر وہ قوت و توانائی نہیں پائی جاسکتی ہے جو ساری دنیاۓانسانیت کے لیے امید کی کرن بن سکے۔

آپ یہ پڑھیے👇


 اگر دنیاۓانسانیت کو موجودہ پستی اور زبوں حالی سے کوئی قوم نکال سکتی ہے تو وہ صرف ایک امت مسلمہ ہے جس سے بجاطور پر توقع رکھی جاسکتی ہے کہ پوری نوع انسانی کوموجودہ پستی سے نکالنے کا کام کرے کیونکہ اس کے اندرو خصوصیات ہیں جن سے دوسری اقوام محروم ہیں، وہ خصوصیات کچھ اس طرح ہیں: اس امت کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ عقیدۂ توحید حیسا مضبوط عقیدہ رکھتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی حاکمیت واقتدار میں کوئی شریک نہیں اور وہ جسم ظلم اورنقص سے منزہ ہے ، اسلام نے یہ بات بھی صاف کر دی کہ اللہ تعالی سے قربت او تعلق پیدا کر نے اور اس کے احکام کو سمجھنے کے لیے اس کے اور اس کے بندوں کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہے۔

 

 پجاریوں ، نجومیوں ، پادریوں اور پنڈتوں نے جو یہ حجابات خدا اورخلق کے درمیان حائل کر رکھے ہیں اس کیقطعا ضرورت نہیں ۔ قرآن نے صاف کہا ہے “وإذا سألك عبادي على فراني قريب” ۔ اس امت کی ایک دوسری نہایت ابھری ہوئی اور روشن صفت یہ ہے کہ ساری انسانیت کے لیے محبت، اخوت، ہمد روی، بھائی چار اور مساوات کے خمیر سے تشکیل دی گئی ہے ۔اس وجہ سے یہ ساری انسانیت کونفرت ، کینہ تفرقہ اور تعصب سے نجات دے کر باہمی تعاون محبت اور فیاضی وسخاوت کا درس دیتی ہے۔

 

 اسلام کے نزدیک معاشرتی ،طبقاتی ،نسلی اورقومی بنیاد پرکسی قسم کی طبقاتی اورنسلی کشمکش کا کوئی سوال نہیں ہے، اس کا اعلان ہے “اے لو گواتم اپنے رب سے ڈروجس نے تم کو ایک نفس سے پیدا کیا ہے”۔ یہ آیت صاف بتاتی ہے کہ بنی نوع انساں کی اصل ایک ہی ہے ، ایک ہی اصل سے یہ انسان مختلف نسلوں ،قوموں  اور جنسوں میں بٹے ہیں اور اپنی اصل فطرت کے لحاظ سے ایک ہی گھر اور خاندان کے مشترک افراد ہیں، جیسا کہ قرآن کہتا ہے : “اے لوگو! میں نے تم کو ایک مر داور ایک عورت سے پیدا کیا”۔

 

اس سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ قرآن بالعموم يا أيها الناس یا بنی آدم سے خطاب کر تا ہے یہ اس لیے تا کہ انسانوں کے اندر وحدت انسانیت کا تصور پیدا ہو سکے اور جہاں تک اسلام کے ماننے والوں سے خطاب کا تعلق ہے وہاں یا یھا الذین امنوا، يا أيها المومنون کے الفاظ سے خطاب کیا گیا ہے تا کہ کسی طرح بھی ان میں نسلی اورقومی تفاخر نہ پیدا ہو سکے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے انسان کے درمیان کامل مساوات کی بنیاد مستحکم کی ،بغیر یہ لحاظ کیے کہ کس کا رنگ کیا ہے اور کس کانسبی تعلق کس سے ہے۔

 

قرآن کا ارشاد ہے : إن أكرمكم عند الله أتقاكم علامہ شبلی رحمہ اللہ فتح مکہ کے موقع پر آنحضرت کے خطبہ پر روشنی ڈالتے ہوۓلکھتے ہیں: “عرب اور تمام دنیا میں نسل اور قوم و خاندان کے امتیاز کی بنا پر ہرقوم میں فرق ومراتب قائم کیے گئے تھے جس طرح ہندوؤں نے چارذاتیں قائم کیں اورشوورکو وہ درجہ دیا جو جانوروں کا درجہ ہے اور اس کے ساتھ یہ بندش کردی کہ وہ کبھی اپنے رتبہ سے ایک ذرہ آگے نہ بڑھنے پائیں ۔ اسلام کا سب سے بڑااحسان جواس نے تمام دنیا پرکیا مساوات عام کرناتھا،اینی عرب و عجم شریف ورذیل ،شاہ وگداسب برابر ہیں ، ہرشخص ترقی کر کے انتہائی درجہ پر پہنچ سکتا ہے، اس بنا پر آنحضرت نے قرآن مجید کی آیت پڑھی اور پھر توضیح فرمائی تم سب اولا دآدم ہواور آدم مٹی سے بنے تھے۔

 

اسلامی قانون اس سے بھی زیادہ بلندی کا ثبوت دیتا ہے، وہ دین نسل اور نگ سے قطع نظر کرتے ہوۓپوری انسانیت کی تکریم و سرفرازی کا درس دیتا ہے: “ولقد کرمنا بنی آدم “(یقینا ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی  )۔ تعجب اور حیرت کی بات ہے کہ آج کا انسان اپنے آپ کو مہذب ، ترقی یافتہ اور نہایت روشن خیال تصور کر تا ہے مگر یہی روشن خیالی آج تک سیاہ فاموں کو ان کے جائز اور فطری حقوق دینے کے لیے تیار  نہیں ہیں۔ ان کی بستیاں بھی الگ رکھتے ہیں گو یا ان کو انسان ہی تصور نہیں کرتے ، یہ امر یکہ جو دنیا میں حریت و آزادی کا سب سے بڑا دعویدار ہے اسی کے سینیٹ کے ایک ممبر نے کہا: ” کسی سیاہ فام کو حق نہیں ہے کہ وہ سیاسی مساوات کے خیالات کو ذہن میں بھی لاۓجیسا کہ جنوبی ریاستوں میں ہور ہا ہے، یہ ملک سفید فاموں کا ہے اوراسی پوزیشن میں رہے گا ۔‘‘

 

 عام مذاہب میں تنگ نظری اور تنگ دلی پائی جاتی ہے لیکن اس ملت کاخمیر جس آب وگل سے تشکیل پایا ہے اس میں رواداری ایک اہم اور طاقتو رعنصر ہے جس کی خصوصیت حسب ذیل ہے:

( ۱ ) قرآن اس ملت کو آگاہ کرتا ہے کہ سارے انسان اس دھرتی پر خدا کے خلیفہ ہیں اور اس کی خلافت ہی کی وجہ سے فرشتوں نے آدم کے سامنے سجدہ کیا ہے ۔

( ۲ ) دنیا کی ہرقوم میں کوئی نہ کوئی ڈرانے والا آیا ہے: (“اللہ نے تمہارے لیے وہی دین مقرر کیا ہے جس کا حکم نوح کود یا گیا اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم،موسی اور عیسی کو بھی دیا کہ قائم کرودین کواور اس میں اختلاف نہ کرو”)۔ یہی وجہ ہے کہ تمام انبیا علیہم السلام کا در جہ نفس رسالت کی حیثیت سے مساوی ہے اور اس باب میں کسی کوکسی پر فضیلت نہیں ہے ۔ مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ تمام انبیاء پرایمان لائیں ۔

( ۳ ) دین میں کوئی جبرواکر اہ نہیں ہے۔ ” کیا آپ لوگوں کو جبر کرنا چاہتے ہیں کہ وہ مومن ہوجائیں“۔

 ( ۴ ) اس امت کے نزدیک تمام ادیان کی عبادت گا ہیں قابل احترام ہیں مسلمانوں پر ان کی حفاظت اسی طرح واجب ہے جس طرح مساجد کی حفاظت ضروری ہے۔ یہ ہے رواداری کے سلسلے میں تو حید ، مساوات اور اخوت کا اسلامی امتیاز جس کی نظیر دنیا میں کسی دوسری قوم کے یہاں نہیں مل سکتی ۔ اس سے صاف پتہ چلتا ہے اگر دنیا کی قیادت کوئی قوم رنگ ونسل ، بھید بھاؤ اور ذات و برادری اور قومی تفاخر سے پرے ہو کے کرسکتی ہے تو وہ صرف امت مسلمہ ہے ۔

WhatsApp Group Join Now
Telegram Group Join Now
Instagram Group Join Now

اپنا تبصرہ بھیجیں