حضرت یوسف علیہ السلام کی کہانی

حضرت یوسف علیہ السلام کی کہانی: صبر، حوصلہ، شکرگزاری اور توکل علی اللہ کی اہمیت ۔ سورہ یوسف آیت نمبر 1-5

سورہ یوسف قرآن مجید کی بارہویں سورت ہے جس میں 111 آیات ہیں۔ یہ سورت مکی ہے، یعنی یہ مکہ میں نازل ہوئی تھی۔ اس سورت کا نام حضرت یوسف علیہ السلام کے نام پر رکھا گیا ہے کیونکہ اس سورت میں ان کا قصہ تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔

پہلی پانچ آیات میں سورہ یوسف کی تمہید اور حضرت یوسف علیہ السلام کے خواب کا ذکر ہے۔

آیت 1: اس آیت میں اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی عظمت اور اس کی اہمیت بیان فرما رہے ہیں۔

آیت 2: اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے قرآن کو عربی زبان میں نازل کیا ہے تاکہ تم اسے اچھی طرح سمجھ سکو۔

آیت 3: اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ ہم آپ کو اس قرآن کے ذریعے بہترین پیرایہ میں واقعات اور حقائق بیان کر رہے ہیں، ورنہ آپ اس سے پہلے ان چیزوں سے بالکل بے خبر تھے۔

آیت 4: اس آیت میں حضرت یوسف علیہ السلام کا خواب بیان کیا گیا ہے جس میں انہوں نے دیکھا کہ گیارہ ستارے، سورج اور چاند انہیں سجدہ کر رہے ہیں۔

آیت 5: اس آیت میں حضرت یعقوب علیہ السلام حضرت یوسف علیہ السلام کو نصیحت فرما رہے ہیں کہ وہ اپنے خواب کا ذکر اپنے بھائیوں کو نہ کریں کیونکہ وہ ان سے حسد کرتے ہیں اور انہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

سورہ یوسف آیت نمبر ۱ سے ۵ جناب شیخ عبدلحفیظ صاحب کی زبانی

سورہ یوسف آیت نمبر 1-5

ان آیات  کے اہم نکات

سورہ یوسف ایک عبرت آموز اور نصیحت آموز سورت ہے جس میں صبر، حوصلہ، شکرگزاری اور توکل علی اللہ کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔

حضرت یوسف علیہ السلام کی کہانی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی مدد کرتا ہے اور انہیں ان کی منزل تک پہنچاتا ہے۔

یہ سورت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنے بھائیوں اور بہنوں سے حسد نہیں کرنا چاہیے اور ان کے ساتھ ہمیشہ محبت اور احترام سے پیش آنا چاہیے۔

سورہ یوسف قرآن مجید کی ایک اہم سورت ہے جس سے ہمیں بہت سے اخلاقی اور روحانی اسباق ملتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس سورت کا مطالعہ کریں اور اس میں بیان کردہ تعلیمات پر عمل کریں۔

حضرت یوسف علیہ السلام کی کہانی

آیے ان آیات کا مطالعہ کریں

آیت 1

ا ، ل ، ر ۔ یہ اس کتاب کی آیات ہیں جو اپنا مدّعا صاف صاف بیان کرتی ہے ۔

یہ آیت سورہ یوسف کی پہلی آیت ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی عظمت اور اس کی اہمیت بیان فرما رہے ہیں۔

حروف مقطعات

آیت کے آغاز میں تین حروف مقطعات “ا، ل، ر” ہیں۔ حروف مقطعات قرآن مجید کی کئی سورتوں میں پائے جاتے ہیں، لیکن ان کے معنی اور مقصد کے بارے میں علماء میں مختلف آراء ہیں۔ بعض علماء کا خیال ہے کہ یہ حروف صرف تلاوت میں حسن پیدا کرنے کے لیے ہیں، جبکہ بعض دیگر علماء کا خیال ہے کہ ان کے کچھ پوشیدہ معنی ہیں جو ہمیں ابھی تک معلوم نہیں ہیں۔

کتاب” سے مراد

اس آیت میں “کتاب” سے مراد قرآن مجید ہے۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانوں کے لیے ہدایت کا ایک ایسا مجموعہ ہے جس میں ان کی زندگی کے ہر پہلو کی رہنمائی موجود ہے۔

مُبِینَۃً” کی وضاحت

“مُبِینَۃً” کا مطلب ہے “واضح اور صاف”۔ اس سے مراد یہ ہے کہ قرآن مجید کی آیات اپنے آپ میں واضح اور صاف ہیں اور ان میں کسی قسم کی ابہام یا پیچیدگی نہیں ہے۔ قرآن مجید کی یہ وضاحت اس بات کی دلیل ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے کیونکہ انسان کی تخلیق کردہ کتابوں میں اکثر ابہام اور پیچیدگیاں پائی جاتی ہیں۔

اس آیت سے ہم نے کیا سیکھا

آیت 1 میں اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی عظمت اور اس کی اہمیت کو واضح طور پر بیان فرما رہے ہیں۔ قرآن مجید ایک ایسی کتاب ہے جو اپنے آپ میں واضح اور صاف ہے اور اس میں انسانوں کے لیے ہدایت کا ایک ایسا مجموعہ موجود ہے جس میں ان کی زندگی کے ہر پہلو کی رہنمائی موجود ہے۔

آیت 2

ہم نے اسے نازل کیا ہے قرآن  بنا کر عربی زبان میں تا کہ تم  اہل عرب اس کو اچھی طرح سمجھ سکو ۔

یہ آیت سورہ یوسف کی دوسری آیت ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے قرآن کو عربی زبان میں نازل کیا ہے تاکہ تم اسے اچھی طرح سمجھ سکو۔

قرآن کی زبان

قرآن مجید کو عربی زبان میں نازل کرنے کی کئی حکمت ہیں:

عربی زبان کی فصاحت و بلاغت: عربی زبان دنیا کی سب سے فصیح اور بلیغ زبانوں میں سے ایک ہے۔ اس میں الفاظ کے معانی اور ان کے استعمال کے بارے میں بہت باریکیاں اور ظرائف ہیں۔ قرآن مجید کو عربی زبان میں نازل کرنے سے اس کی فصاحت و بلاغت اور اس کے اعلیٰ ادبی معیار کا اظہار ہوتا ہے۔

عربی زبان کی وسعت: عربی زبان ایک بہت وسیع زبان ہے جس میں مختلف قسم کے خیالات اور تصورات کو بیان کرنے کی صلاحیت ہے۔ قرآن مجید میں عقائد، احکامات، اخلاقیات، اور دیگر بہت سے موضوعات پر بحث کی گئی ہے۔ عربی زبان کی وسعت کی وجہ سے قرآن مجید میں ان تمام موضوعات کو جامع اور مفصل انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

عرب مخاطب: قرآن مجید کا نزول اس وقت ہوا جب عرب دنیا میں عربی زبان سب سے زیادہ بولی اور سمجھی جاتی تھی۔ قرآن کو عربی زبان میں نازل کرنے سے یہ یقینی بنایا گیا کہ اس کا مخاطب براہ راست اس زبان کو سمجھنے والے لوگ ہوں گے۔

اہل عرب کے لیے آسان

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ہم نے قرآن کو عربی زبان میں نازل کیا ہے تاکہ تم (اہل عرب) اس کو اچھی طرح سمجھ سکو۔ اس سے مراد یہ ہے کہ قرآن مجید کی آیات عربی زبان کے قواعد اور نحو کے مطابق ہیں اور ان میں ایسے الفاظ اور تراکیب استعمال نہیں کیے گئے ہیں جو عام عرب بولنے والوں کے لیے مشکل ہوں۔ اس کی وجہ سے اہل عرب کے لیے قرآن مجید کو سمجھنا اور پڑھنا آسان ہو جاتا ہے۔

اس آیت سے ہم نے کیا سیکھا

آیت 2 میں اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی زبان کے انتخاب کی حکمت کو واضح فرما رہے ہیں۔ قرآن مجید کو عربی زبان میں نازل کرنے سے اس کی فصاحت و بلاغت، وسعت، اور اہل عرب کے لیے سہولت کا اظہار ہوتا ہے۔

آیت 3

اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ، ہم اس قرآن کو تمہاری طرف وحی کر کے بہترین پیرایہ میں واقعات اور حقائق تم سے بیان کر تے ہیں ، ورنہ اس سے پہلے تو ان چیزوں سےتم بالکل ہی بے خبر تھے ۔

یہ آیت سورہ یوسف کی تیسری آیت ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ ہم آپ کو اس قرآن کے ذریعے بہترین پیرایہ میں واقعات اور حقائق بیان کر رہے ہیں، ورنہ آپ اس سے پہلے ان چیزوں سے بالکل بے خبر تھے۔

قرآن کی تعلیمات

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو عقائد، احکامات، اخلاقیات، اور دیگر بہت سے موضوعات پر تعلیم دی ہے۔ یہ تعلیمات نہ صرف اس وقت کے لوگوں کے لیے تھیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ہیں۔ قرآن مجید کی تعلیمات اپنی جامعیت، فصاحت و بلاغت، اور حکمت کی وجہ سے منفرد ہیں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی علمیت

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے منتخب بندے تھے اور آپ کو وحی کے ذریعے علم حاصل ہوتا تھا۔ اس علم کی وجہ سے آپ دنیا کے تمام علوم اور فنون سے واقف تھے۔ لیکن اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن مجید کے ذریعے کچھ ایسے واقعات اور حقائق سے بھی آگاہ کیا گیا جن کے بارے میں آپ اس سے پہلے بالکل بے خبر تھے۔

مثالیں

قرآن مجید میں کئی ایسے واقعات اور حقائق کا ذکر ہے جن کے بارے میں اس سے پہلے کسی کو علم نہیں تھا۔ مثال کے طور پر، قرآن مجید میں حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق، حضرت نوح علیہ السلام کا طوفان، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا آزمائش، اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا فرعون سے مقابلہ جیسے واقعات کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، قرآن مجید میں آسمانوں اور زمین کی تخلیق، فرشتوں کی نوعیت، اور جنت و جہنم کی حقیقت جیسے حقائق کے بارے میں بھی معلومات دی گئی ہیں۔

اس آیت سے ہم نے کیا سیکھا

آیت 3 میں اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی عظمت اور اس کی اہمیت کو واضح فرما رہے ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو عقائد، احکامات، اخلاقیات، اور دیگر بہت سے موضوعات پر تعلیم دی ہے۔ یہ تعلیمات اپنی جامعیت، فصاحت و بلاغت، اور حکمت کی وجہ سے منفرد ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن مجید کے ذریعے کچھ ایسے واقعات اور حقائق سے بھی آگاہ کیا گیا جن کے بارے میں آپ اس سے پہلے بالکل بے خبر تھے۔

آیت 4

یہ اس وقت کا ذکر ہے جب یوسف ( علیہ السلام ) نے اپنےباپ سے کہا ابا جان ، میں نے خواب دیکھا ہے کہ گیارہ ستارے ہیں اور سورج اور چاند ہیں اور وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں ۔

یہ آیت سورہ یوسف کی چوتھی آیت ہے اور اس میں حضرت یوسف علیہ السلام کا خواب بیان کیا گیا ہے جس میں انہوں نے دیکھا کہ گیارہ ستارے، سورج اور چاند انہیں سجدہ کر رہے ہیں۔

خواب کی نوعیت

حضرت یوسف علیہ السلام کا یہ خواب ایک خاص نوعیت کا خواب تھا جسے “رؤیا صالحہ” کہا جاتا ہے۔ رؤیا صالحہ وہ خواب ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نیک بندوں کو دکھائے جاتے ہیں اور ان میں کسی نہ کسی اہم واقعہ یا واقعہ کی خبر ہوتی ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کا یہ خواب ان کی مستقبل کی عظمت اور بلندی کا اشارہ تھا۔

خواب کی تعبیر

جب حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے والد حضرت یعقوب علیہ السلام کو اپنے خواب کے بارے میں بتایا تو انہوں نے اس کی تعبیر یہ کی کہ گیارہ ستارے آپ کے گیارہ بھائی ہیں، سورج آپ کا والد ہیں، اور چاند آپ کی والدہ ہیں۔ اور یہ کہ آپ کے بھائی، والد اور والدہ سب آپ کے سامنے سجدہ ریز ہوں گے۔

خواب کا اثر

حضرت یوسف علیہ السلام کا یہ خواب ان کے بھائیوں کے لیے حسد اور دشمنی کا باعث بن گیا۔ جب انہوں نے سنا کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے خواب میں انہیں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے تو انہیں یہ بات بہت ناگوار گزری اور انہوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو نقصان پہنچانے کا منصوبہ بنایا۔

اس آیت سے ہم نے کیا سیکھا

آیت 4 میں حضرت یوسف علیہ السلام کا خواب بیان کیا گیا ہے جو ان کی مستقبل کی عظمت اور بلندی کا اشارہ تھا۔ یہ خواب ان کے بھائیوں کے لیے حسد اور دشمنی کا باعث بن گیا اور اس کی وجہ سے انہوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو نقصان پہنچانے کا منصوبہ بنایا۔

آیت 5

جواب میں اس کے باپ نے کہا ، بیٹا ، اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں کو نہ سنانا ورنہ وہ تیرے درپے آزار ہو جائیں گے ، 4 حقیقت یہ ہے کہ شیطان آدمی کا کھلا دشمن ہے ۔

یہ آیت سورہ یوسف کی پانچویں آیت ہے اور اس میں حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے بیٹے حضرت یوسف علیہ السلام کو نصیحت فرما رہے ہیں کہ وہ اپنے خواب کا ذکر اپنے بھائیوں کو نہ کریں کیونکہ وہ ان سے حسد کرتے ہیں اور انہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

حضرت یعقوب علیہ السلام کی تشویش

حضرت یعقوب علیہ السلام کو اپنے بیٹوں کے حسد اور دشمنی کا علم تھا۔ وہ جانتے تھے کہ اگر حضرت یوسف علیہ السلام نے انہیں اپنے خواب کے بارے میں بتایا تو وہ ان سے حسد کریں گے اور انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے۔ اس لیے انہوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو اپنے خواب کا ذکر کسی اور کو نہ کرنے کی تلقین کی۔

شیطان کی دشمنی

حضرت یعقوب علیہ السلام نے اس آیت میں شیطان کو انسان کا کھلا دشمن قرار دیا ہے۔ شیطان ہمیشہ انسانوں کو گمراہ کرنے اور انہیں برائی کی طرف مائل کرنے کی کوشش میں رہتا ہے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کو خدشہ تھا کہ شیطان حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کو ان کے خلاف اکسا سکتا ہے اور وہ حضرت یوسف علیہ السلام کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

اس آیت سے ہم نے کیا سیکھا

آیت 5 میں حضرت یعقوب علیہ السلام کی اپنے بیٹے حضرت یوسف علیہ السلام کے لیے محبت اور شفقت کا اظہار ہوتا ہے۔ وہ اپنے بیٹے کو خطرات سے بچانا چاہتے ہیں اور اس لیے انہیں اپنے خواب کا ذکر کسی اور کو نہ کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ اس آیت میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے اور ہمیشہ اس سے محتاط رہنا چاہیے۔

WhatsApp Group Join Now
Telegram Group Join Now
Instagram Group Join Now

اپنا تبصرہ بھیجیں