زکوۃ کے احکام،زکوۃ کی فرضیت اور زکوۃ کے مسائل کی مکمل جانکاری

زکوۃایک فریضہ

زکوۃ کے احکام،زکوۃ کی فرضیت اور زکوۃ کے مسائل

زکوۃ کے احکام
زکوۃ کے احکام

دوستونماز اور زکوۃ ، دراصل پورے دین کی ترجمانی کرنے والی دواہم عبادتیں ہیں۔ بدنی عبادات میں نماز پورے دین کی نمائندگی کرتی ہے اور مالی عبادات میں زکوۃ پورے دین کی نمائندگی کرتی ہے، بندے پر دین کی طرف سے جوحقوق عائد ہو تے ہیں ان کی دوہی قسمیں ہیں ، خدا کے حقوق اور بندوں کے حقوق ،نماز بندے کو خدا کے حقوق ادا کر نے کے لئے تیار کرتی ہے اور زکوۃ بندگان خدا کے حقوق ادا کر نے کا گہرا شعور پیدا کرتی ہے ،اور ان دونوں حقوق کو ٹھیک ٹھیک ادا کر نے ہی کا نام اسلام ہے ۔

 

زکوۃ کی حیثیت اور مرتبے کو جانو

دوستو زکو ۃ اسلام کا تیسراعظیم رکن ہے ، دین میں نماز کے بعدزکوۃ  ہی کا مرتبہ ہے، چنانچہ قرآن پاک میں جگہ جگہ ایمان کے بعد نماز کا اورنماز کے بعد زکوۃ  کا ذکر کیا گیا ہے، جس سے ایک طرف تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ دین میں نماز اور زکوۃ کی حیثیت اور مقام کیا ہے ۔ دوسری طرف یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ نماز کے بعد زکوۃ ہی کا مرتبہ ہے ، اور یہی حقیقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے بھی واضح ہوتی ہے :۔

 

’’ حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل کو یمن کی جانب رخصت کر تے ہوۓ وصیت فرمائی کہ تم وہاں ان لوگوں میں پہنچ رہے ہو، جن کو کتاب دی گئی تھی بتم ان کو سب سے پہلے شہادت ایمان کی دعوت دینا کہ اللہ کے سواکوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، جب وہ اس حقیقت کا اعتراف کر لیں تو ان کو بتاؤ کہ اللہ نے ان پر شب وروز میں پانچ وقت کی نماز میں فرض کی ہیں ، جب وہ اس کو بھی مان لیں تو انھیں بتاؤ کہ اللہ نے ان پر صدقہ (زکوۃ فرض فرمایا ہے جو ان کے خوش حال افراد سے وصول کیا جاۓ گا اوران کے نادار اور حاجت مند افراد میں تقسیم کیا جاۓ گا۔ جب وہ اس بات کو بھی تسلیم کر لیں تو زکوۃ وصول کر نے میں ان کے اچھے اچھے مال چھانٹ چھانٹ کر نہ لینا اور مظلوم کی بددعا سے بچے رہنا، کیونکہ خدا اور مظلوم کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہوتا “۔

 

آسان زبان میں  زکوۃ کے معنی جانو

دوستوزکوۃ کے لغوی معنی ہیں پاک ہونا ، پڑھنا ،نشونما پانا اور اصطلاح فقہ‘‘ میں زکوۃ سے مراد یہ مالی عبادت ہے کہ ہر صاحب نصاب مسلمان اپنے مال میں سے شریعت کی مقرر کی ہوئی مقدار ان لوگوں کے لئے نکالے جوشریعت کی نظر میں زکوۃ لینے کے مستحق ہیں۔ زکوۃ ادا کرنے سے مال پاک وطاہر ہو جا تا ہے اور اللہ اپنے فضل سے اس میں خیر و برکت عطا فرماتا ہے ،اور آخرت میں بھی اتنا اجر وانعام دیتا ہے جس کا انسان تصور نہیں کرسکتا ، اسی لئےاس عبا دت کو زکوۃ یعنی پاک کرنے اور بڑھانے والاعمل کہتے ہیں۔

آپ یہ پڑھیے👇


زکوۃکی  اصل حقیقت کیا ہے

دوستوخدا کی خوشنودی کے لئے جب مومن اپنا محبوب اور دل پسند مال خدا کی راہ میں خوشی خوشی خرچ کرتا ہے تو اس سے مومن کے دل میں ایک نو راور جلا پیدا ہوتی ہے، مادی کثافتیں اور دنیوی محبتیں ختم ہوتی ہیں ،اور قلب وروح میں ایک تازگی ،لطافت ، پا کیز گی اور محبت الہی کے جذبات پیدا ہوتے اور بڑھتے ہیں ۔زکوۃ ادا کرنا خودمحبت الہی کا ثبوت بھی ہے اور محبت الہی کے پروان چڑھانے کا مؤثر اورمستند ذریعہ بھی۔ زکوۃ کی حقیقت محض یہی نہیں ہے کہ وہ ناداروں کی کفالت اور دولت کی صحیح تقسیم کی ایک تد بیر ہے بلکہ وہ خدا کی فرض کی ہوئی ایک اہم عبادت ہے جس کے بغیر نہ آ دی کے قلب ور وح کا تر کیہ ممکن ہے اور نہ وہ خدا کا مخلص اورمحسن بندہ ہی بن سکتا ہے۔

 

دوستوزکوۃ دراصل خدا کی بے پایاں نعمتوں پر شکر کا اظہار ہے ، قانونی زکوۃ تو بلاشبہ یہی ہے کہ جب خوش حال آدمی کے مال پر ایک سال گزر جاۓتو وہ اپنے مال میں سے ایک مقر رحصہ مستحقین کے لئے نکال لے ،لیکن زکوۃ کی حقیقت محض یہی نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالی اس عمل کے ذریعے مومن کے دل سے دنیا کی تمام مادی محبتیں نکال کر اپنی محبت بٹھا نا چاہتا ہے، اور یہ تربیت دینا چاہتا ہے کہ مومن خدا کی راہ میں اپنا مال،اپنی جان اوراپنی تمام قوتیں اور صلاحیتیں ،قربان کر کے روحانی سرور محسوس کرے،اور سب کچھ خدا کی راہ میں دے کرشکر کے جذبات سے سرشار ہو، کہ خدانے اپنے فضل وکرم سے اپنی راہ میں جان و مال قربان کرنے کی توفیق دی ۔

 

اسی لئے شریعت نے زکوۃ کی ایک قانونی حدمقرر کر کے بتا دیا کہ اتناخرچ کرنا تو ہر مسلمان کے لئے ناگزیر ہے،اتنا خرچ کئے بغیر تو ایمان ہی مشتبہ ہے لیکن ساتھ ہی پوری قوت کے ساتھ یہ ترغیب بھی دی کہ مومن اسی کم سے کم مقدار پر اکتفا نہ کرے بلکہ زیادہ سے زیادہ خدا کی راہ میں صرف کرنے کی عادت ڈالے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کی زندگیوں سے بھی یہی حقیقت سامنے آتی ۔

 

حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے آپ سے سوال کیا۔اس قت آپ کے پاس اتنی بکریاں تھیں کہ دو پہاڑوں کے درمیان کی پوری وادی ان سے بھری ہوئی تھی ۔آپ نے وہ ساری بکریاں اس سائل کے حوالے کر دیں۔ جب وہ شخص اپنے لوگوں میں واپس پہنچا تو اس نے اپنی قوم کے لوگوں سے مخاطب ہو کرکہا”لوگو!  مسلمان ہوجاؤ! محمد (صلی اللہ علیہ وسلم تواتنادیتے ہیں کہ انہیں اپنے مفلس ہونے کا ذرا خوف نہیں ہوتا‘۔

 

نظام زکوۃ کا اصل مقصدکیا ہے

دوستوزکوۃ کا نظام در اصل مومن کے دل سے محب د نیا اوراس جڑ سے پیدا ہونے والے سارے جھاڑ جھنکاڑ صاف کر کے خالص خدا کی محبت پیدا کرنا چاہتا ہے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب بندہ مومن محض زکوۃ ادا کر نے ہی پر قناعت نہ کرے بلکہ زکوۃ کی اس روح کو جذب کرنے کی کوشش کرے، کہ ہمارے پاس جو کچھ ہے ، خداہی کا ہے، اور اس کو اسی کی راہ میں قربان کر کے ہم اس کی خوشنودی حاصل کر سکتے ہیں ، زکوۃ کی اس روح اور مقصد کو جذب کئے بغیر نہ تو کوئی بندہ خدا کے بندوں سے محض خدا کے لئے محبت کر سکتا ہے اور نہ خدا کے حقوق پہچاننے اور ادا کر نے میں اتناحساس اور فراخ دست ہوسکتا ہے۔

دوستوزکوۃ کا نظام در اصل پورے اسلامی سماج کوبخل ، تنگ دلی ،خودغرضی، بغض ،حسد ،سنگ دلی ، اور استحصال جیسے رکیک جذبات سے پاک کر کے اس میں محبت ، ہمدردی ،ایثار، احسان، خلوص، خیرخراہی ،تعاون ،مواسات اور رفاقت کے اعلی اور پاکیزہ جذبات پیدا کرتا اور پروان چڑھا تا ہے، یہی وجہ ہے کہ زکوۃ  ہمیشہ ہر نبی کی امت پرفرض رہی ہے ، اس کی مقدار نصاب اورفقہی احکام میں ضر ورفرق رہا ہے لیکن زکوۃ کاحکم بہر حال ہر شریعت میں موجو در ہا ہے۔

WhatsApp Group Join Now
Telegram Group Join Now
Instagram Group Join Now

اپنا تبصرہ بھیجیں