سیب اور الزائمر بیماری | apple and Alzheimer

اردو پوائنٹ urdupointکے پڑھنے والوں کو ہمارا سلام۔جرمنی میں سائنسدانوں کو ایک نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ سیب میں کچھ ایسے کیمیاوی اجزا پائے جاتے ہیں جو ہمارے دماغی خلیات کو طاقت دیتے ہیں۔

apple and Alzheimer
اور اس کی وجہ سے سے دماغ میں سیکھنے کا عمل یا پھر آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یادداشت میں کافی بہتری آتی ہے۔ان کے مطابق سیب کافی حد تک الزائمرAlzheimer اور ڈیمنشیاDementiaجیسے خطرناک مرض کو ہونے سے بچا سکتا ہے۔

سیب میں میں طرح طرح کے فائٹروں نیوٹرینٹسphytonutrientsہوتے ہیں جو ہمارے دماغ کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند ہوتے ہیں۔یہ تجربہ سائنسدانوں نے چوہوں پر کیا ہے۔ان کو پتہ چلا کہ فائٹروں نیوٹرینٹس ہمارے دماغ میں میں بھورے مواد یاد جس کو ہمgray matterبھی کہتے ہیں اس کوبناتے ہیں اور وہ بھورا مواد  انسان میں سوچنے اور سمجھنے کے لئے ذمہ دار ہوتا ہے۔


جرمن انسٹیٹیوٹ کے ایک پروفیسر نے کہا کہ کہ جب ایک انسان ورزش کے بعد اچھے اثرات محسوس کرتا ہے ٹھیک اسی طرح سیب میں موجود اجزا کے ٹیکے بنا کر وہ انسان کو لگائیں تو وہ اچھا محسوس کرتے ہیں۔سیب میں موجود کیمیاوی مرکب ہمارے جسم کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے۔

انہوں نے ایک بات اور کہی کہ سیب میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس انسان میں جلن اور سوزش کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کہ سیب میں موجود کیمیاوی مادہ ہمارے دماغ میں نئے خلیات کو پیدا کرنے میں بہت زیادہ مدد کرتے ہیں۔

پروفیسر نے بتایا کہ کہ ہم سیب کے چھلکے کو کھانے کی عادت ڈالیں کیوں کہ ہمارے دماغ کے لیے یہ چھلکا بہت زیادہ مفید ہے اس لیے ہم کو یہ عادت بنانی چاہیے کہ ہم سیب کا گودا اس کا چھلکا دونوں کھائیں نہ کہ چھلکے کو پھینک دیں۔سیب میں موجود کیمیکل کیورسٹائن دراصل سیب کے چھلکے میں ہوا کرتا ہے ہے اور اسی سے سیب میں ایک منفرد خوشبو بھی آتے ہیں۔

ہم کو پوری امید ہے کہ آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہوگی۔اگر آپ کو اس تحریر کے بارے میں کچھ کہنا ہے تو نیچے کمنٹ باکس میں جا کر آپ  میسج کر سکتے ہیں۔ایک نئی پیشکش کے ساتھ بہت جلد ملتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں