شاہین 3 سے اسرائیل پریشان کیوں؟ | ‎ Shaheen 3 and Israel

اردو پوائنٹ Urdupointکے معزز دوستوں پاکستانPakistan نے ایک تیر سے دو شکار کرتے ہوئے اسرائیل Israelاور بھارت کو بڑا جھٹکا دیا جو کہ پاکستانی دفاعی انجینئرز کی کمال مہارت کا نتیجہ ہے۔ اسرائیل اور بھارت کا دفاعی حصار کس طرح ناکارہ ہو چکا ہے اور شاہینShaheen  نامی پاکستانی بیلسٹک میزائل نے کیسے اسرائیل اور بھارت کی ڈاکٹرائن کو بیک وقت ناکارہ بنایا اس کی کہانی انتہائی دلچسپ ہے ۔
Shaheen 3 and Israel
Shaheen 3 and Israel


 پاکستانی فوج کی جانب سے شاہین تھری Shaheen 3کے بعد گزشتہ روز شاہین A1 کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔اس کا اسرائیل سے کیا تعلق ہے یہ جاننے کے لیے ہمیں اسرائیل کی جغرافیائی حیثیت اور بھارت کی سرحدی اہمیت کو سمجھنا ہوگا، اس لئے آپ سے گزارش ہے کہ اس آرٹیکل کوآخر تک لازمی پڑھیں۔
 اسرائیل ایک ناجائز ریاست کے تور سے شروع دن سے ہی پاکستانPakistanکے خلاف گھناؤنے اقدامات کرتا رہا ہے سب سے اہم امر تو یہ ہے کہ بھارتی فوج کے پاس موجود اسلحہ کی بڑی مقدار اسرائیل کی تیار کردہ ہے،اور یہ دونوں ملک مل کر پاکستان پر چڑھائی کے خواب دیکھتے رہتے ہیں۔
 یہی وجہ ہے کہ پاکستان ان کا مقابلہ کرنے کے لیے میدان میں ایسی کامیابی حاصل کر چکا ہے کہ عالمی دنیا حیران ہے۔ اسرائیل کی جغرافیائی حیثیت کو دیکھا جائے تو اس کے اردگرد مسلم ریاستں پائی جاتی ہیں، جیسا کہ اردن ،شام ،عراق اور دیگر عرب ریاستوں کی سرحدیں اسرائیل سے ملتی ہیں رقبے کے اعتبار سے دیکھا جائے تو اسرائیل Israelان تمام ممالک سے ساڑھے چھ سو گنا چھوٹا ملک ہے مگر چھوٹے سے ملک نے دنیا بھر کے مسلم ممالک کو ڈرا رکھا ہے، اور اپنی دفاعی طاقت کو اس قدر مضبوط بنا چکا ہے کہ کوئی بھی ملک اس سے پنگا نہیں لیتا۔ جب کہ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ اسرائیل کے ارد گرد پاے جانے والے تمام مسلم ممالک ایٹمی قوت سے محروم ہیں ۔
 اسرائیل کے پاس جدید ترین ائیر ڈیفنس سسٹم موجود ہیں جو کسی بھی بڑے میزائل کو ہوا میں ہی تباہ کر دینے کی طاقت رکھتے ہیں ۔ اسرائیل کو قدرتی طور پر ایک فائدہ یہ حاصل ہے کہ اردن اور اسرائیل کی سرحد پر ایک وادی پائی جاتی ہے جسے جورڈن ویلی بھی کہا جاتا ہے ۔
 پہاڑوں سے گھرے ہونے کی وجہ سے کوئی بھی ملک اسرائیل پر حملہ آور نہیں ہو سکتا اور اس وادی کی گہرائی کی وجہ سے اسے عبور کرنا بھی تقریباً ناممکن ہے۔ لہذا اصل کہانی کی طرف بڑھنے سے پہلے اگر دیکھا جائےاگر کوئی جنگی جہاز قریب ترین سرحد سے اڑتے ہوئے اسرائیل کے اوپر سے گزرے تو محض دو منٹ کے اندر ہی اسرائیل پر بمب کو گرا کر اس کے آگے نکل جائے گا یعنی اس وقفے کے دوران پورے کے پورے اسرائیل پر بمباری کی جاسکتی ہے۔
اس بیچ پاکستان نےصرف اور صرف بارہ منٹ کے اندراسرایل کے ڈیفنس سسٹم کو ناکارہ بنا دیا ہے۔ بلکہ پاکستان صرف 12 منٹ کے اندر اسرائیل کو ملیامیٹ کرنے کی طاقت بھی رکھتا ہے جی ہاں جو پاکستان کو اول روز سے ہی علم تھا کہ بھارت کے بعد اگر کوئی پاکستان کا دشمن ہے تو وہ اسرایل Israelہے کہ وہ مسلمانوں کی صدیوں سے ہی دشمن رہی ہیں اور خود اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں فرمایا کہ یہودی کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک اسرائیل کی یہودی قوم مسلمانوں کے خلاف مضمون پروپیگنڈے کرتی آئی ہے ۔
دوستو اللہ پاک کے فضل و کرم سے پاکستان اسرائیلIsrael جیسے شرپسند ملک کو لگام دینے کے لیے ایک ایسا میزائل تیار کیا ہے جو اسرائیل کی تباہی کا دوسرا نام ہے ۔ دنیا کے دفاعی ماہرین اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کیوں کہ اسرائیل پاکستان سے 3200 کلومیٹر کی دوری پر واقع ایک انتہائی چھوٹا سا ملک ہے. اور وہ اس ضمن میں کہتے ہیں کہ اتنی بڑی رینج کا حامل کوئی میزائل پاکستان کے پاس موجود ہی نہیں تاہم یہ ان کی غلط فہمی ہے ۔
پاکستان کی اہم شخصیات نے دعویٰ کر رکھا ہے کہ پاکستان بڑی آسانی سے اسرائیل کو اپنے میزائلوں کی مدد سے تباہ کر سکتا ہے ۔ کیا یہ دعویٰ جھوٹ پر مبنی ہے بالکل نہیں کیوں کہ پاکستان نے شاہین تھری Shaheen 3کے نام سے ایک ایسا شاہکار تیار کر رکھا ہے جو اسرائیل کی دھجیاں اڑا سکتا ہے۔
پاکستانPakistanنے میڈیم رینج بلاسٹک میزائل شاہین تھریShaheen 3 کا مارچ 2015 میں تجربہ کیا تھا یہ ستائیس سو پچاس کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بناسکتی ہے اور ایٹمی وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔پاکستان نے 2015 مارچ میں ہی تجربہ کیا پاکستان کا شاہین تھریShaheen 3 میزائل آواز کی رفتار سے اٹھارہ گنا زیادہ تیزی کے ساتھ سفر کرتا ہے جو کہ 21 ہزار چار سو آٹھ کلومیٹر فی گھنٹہ بنتے ہیں۔
دوستو  بذریعہ سڑک کوئٹہ سے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب کا فاصلہ دیکھا جائے تو یہ 4182 کلومیٹر بنتا ہے جبکہ یہی سفر اگر فضائی ہو تو یہ مزید کم ہوکر 2934 کلومیٹر رہ جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ کچھ عرصہ قبل پاکستان کے معروف سینئر تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود صاحب نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کا شاہین تھری میزائل بغیر کسی رکاوٹ کے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب پر گر سکتا ہے ۔
 پاکستان اور اسرائیلIsrael کے راستے میں ایران ،عراق اور اردن آتے ہیں جن کے پاس کوئی میزائل ڈیفنس سسٹم نہیں ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ میزائل سیدھا اسرائیل پر گرے  گا، یہی وجہ ہے کہ اسرائیل اگر کسی مسلمان ملک سے ڈرتا ہے تو وہ ملک صرف اور صرف پاکستان ہے۔
 پاکستان کے علاوہ ترکی اوردوسری مسلم ریاستوں کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات کافی اچھے ہیں، جبکہ ایران ایٹمی ملک نہ ہونے کی وجہ سے اسرائیل پر حملہ نہیں کر سکتا، اس ساری صورتحال کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان سے ایک میزائل شاہین تھری Shaheen 3 نے اسرائیل کی دفاعی حکمت عملی کو ناکارہ بنا دیا ہے۔
 لیکن یہاں اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر پاکستان اسرائیل کو نشانہ بناتا ہے تو اس کے جواب میں اسرائیل یا تو خود پاکستان پر جوابی حملہ کر سکتا ہے یا پھر اپنے قریبی دوست ملک بھارت سے پاکستان پر حملے کی کوشش کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے ایک تیر سے دو شکار کرتے ہوئے بھارت اور اسرائیل ڈاکٹرائن کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔
 پاکستان نے جو گزشتہ روز کامیاب تجربہ کیا ہے یہ میزایل 900 سے 1000 کلو میٹر کی رینج تک اپنے ٹارگٹ کو درستی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور کسی بھی جنگ کا پانسہ پلٹ دینے کے لئے کافی ہے اس میزائیل کی سب سے خاص بات اس کی تیز ترین سپیڈ ہے۔ شاہین تھری کے مقابلے میں شاہین A1 انتہائی برق رفتاری سے اپنے ہدف کو نشانہ بناتا ہے۔
 یعنی یہ میزائل بھارت کے لئے کسی بڑے خطرے سے کم نہیں۔ اسکو بھارت بھر کو تباہ کرنے کے لیے شاہینوں نے تخلیق کیا جو پاکستانی انجینئرز کی قابلیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔پاکستان نے بھارت کی ڈاکٹرائن کو تباہ کرنے کا منصوبہ کئی سال قبل تیار کیا تھا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس پر عمل درآمد کیا جاتا رہا اور آج الحمدللہ پاکستان اس قابل ہو چکا ہے کہ وہ نہ صرف اسرائیل بلکہ بھارت کو جنگی میدان میں دھول چٹا سکتا ہے۔
دوستو   دوسری طرف ہندوستان کی موجودہ ہندوتوا حکومت بھی مسلمانوں کو غلام بنانے پر تلی ہوئی ہے ایسے میں ہندوستان اور اسرائیل کا مفاد ایک ہے ۔ عرب عمارات اور بحرین کی طرف سے ہندوستانی وزیراعظم نریندرمودی کو امن ایوارڈ دینا اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں اسرائیل امریکہ کے تعاون اور حمایت سے خطے میں اسلامی مزاحمت کے خلاف نئی گیم شروع کر چکا ہے۔
 اس میں ہندوستان کے کردار کو ہرگز نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ دوستوں اگر آپ کو یاد ہو تو 27 فروری کے واقعے کے بعد پاکستان کے سینئر دفاعی تجزیہ کار لیفٹینینٹ جنرل ریٹائرڈ غلام مصطفی صاحب نے بیان جاری کیا تھا کہ پاکستان کا خطرناک میزائل شاہین 3 اسرائیل کو 12 منٹ سے بھی کم وقت میں ہٹ کر سکتا ہے۔
 دوستو   27 فروری کو پاکستان شاہین 3 Shaheen 3 کو بھیجنے کی تیاری میں تھا ،اگلی صبح دنیا متحرک ہو گئی تھی اس وقت یہ دعوی کیا تھا کہ بھارتی پائلٹ ابھی نندن کے ساتھ دوسرا اسرائیلی پائلٹ تھا اور اس سارے کھیل میں اسرائیل شامل ہے ۔
پاکستان کے حساس حلقوں نے ایک فوجی جرنیل سے یہ بیان دلوا کر اسرائیل اور اس کے حامیوں کو یہ پیغام دیا کہ اگر اسرائیل نے پاکستان کے خلاف ہندوستان کا جنگی میدان میں کسی بھی قسم کا ساتھ دیا تو پاکستان کے پاس بھی شاہین 3 میزائل موجود ہے جو بارہ منٹ سے بھی کم وقت میں تل ابیب کو خاک و خون میں تبدیل کر سکتا ہے دوستو امید کرتے ہیں میری آج کی اسٹوری آپ کو انتہائی مزیدار لگی ہوگی تو ملتے ہیں کہ اگلی ویڈیو میں تب تک کے لئے مجھکو کو دیجئے اجازت اللہ نگہبان۔

اپنا تبصرہ بھیجیں