DYSENTERY

پیچش (زحیر ) کیا ہوتی ہے۔اسکے یونانی علاج کےبارے مین مکمل جانکاری لیجیے

زحیر (پیچش)

DYSENTERY

پیچش (زحیر ) کیا ہوتی ہے
پیچش (زحیر ) کیا ہوتی ہے

 

تعریف: امعامستقیم سے اگر درد کے ساتھ اسہال آ ئیں تو اسے زحیر ( پیچش) کہتے ہیں ۔ جمہور اطباء کے نزدیک زحیر وہ مرض ہے جس میں امعاءمستقیم اور قولون کے اندر ورم ہو جا تا ہے فضلات کو دفع کرنے کیلئے ان میں غیر طبعی حرکت ہوتی ہے۔اجابت کے ساتھ درد ہوتا ہے ۔ اور براز کے ساتھ آؤں ( Mucus ) اور خون خارج ہوتا ہے۔

اقسام:

قدیم اطباء نے اس کی تقسیم درجہ ذیل طور پر کی ہے

( ۱ ) زحیر کاذب یا باطل

( ۲ ) زحیر صادق

زحیر صادق کو مز ید دوقسموں میں بیان کیا ہے ۔

(الف) زحیر حاد

(ب) زحیر مزمن

خلطی اعتبار سے اس کو زحیر دموی۔ زحیر صفراوی اور زحیر بلغمی میں تقسیم کیا گیا ہے۔ جدیدنظر یہ کے مطابق اس کی دوقسمیں ہیں ۔

( ۱ ) زحیر حاد( جراثیمی)  Bacillary Dysentery

( ۲ ) زحیر مزمن (امیبائی)AmoebicDysentery

( ۱ ) زحیر کاذب یا باطل:

اس میں معاء دقاق ( چھوتی آنت) میں خشک ثقل کا احتباس ہوتا ہے ۔مریض کو ہروقت براز کورفع کرنے کی حاجت محسوس ہوتی ہے، لیکن خشکی کی وجہ سے براز خارج نہیں ہو پا تا اور آنتوں کی حرکت کی وجہ سے لیسدار رطوبت اور امعاء کے چھلکے خارج ہوتے ہیں ۔ بعض اوقات غلیظ ریاح کی وجہ سے جرم امعاء میں تناؤ پیدا ہو کر شدید درداور امعاء کے رگوں کے دہانہ کشادہ ہو جانے کی وجہ سے خون بھی خارج ہوتا ہے ۔

آپ یہ پڑھیے👇

( ۲ ) زحیر صادق

اس میں بڑی آنتوں کے زیر یں حصہ (امعاء مستقیم ) میں ورم پیدا ہو جا تا ہے ۔ یہ ورم آنتوں کے اندرونی طبقہ مخاطیہ میں ہوتا ہے اور بعض اوقات طبقہ عضلیہ بھی متورم ہو جاتی ہے۔ اس میں مریض کو بار بارمروڑ کے ساتھ اجابت کی حاجت محسوس ہوتی ہے ۔ اور پاخانہ میں آؤں وخون خارج ہوتا ہے۔

تفریق زحیر صادق وكاذب :

زحیر کا ذب اور زحیر صادق میں تفریق کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ مریض کو تم خیار شمر یا تخم تمر ہندی یا اسپغول مسلم روغن گا ؤ میں چرب کر کے سوتے وقت نگلنے کو دیں صبح میں اگرتخم اسہال کے ساتھ خارج ہوتو حیر صادق ہے ورنہ حیر کاذب ہے۔

ز جیرحادBacillary Dysentery

اس کو جراشیمی پیچش بھی کہتے ہیں ۔ یہ بہت ہی مشہور اور عام مرض ہے، دنیا کے بیشتر ممالک میں اس کے مریض پاۓجاتے ہیں ۔ جن مقامات پر آبادی گنجان ہے اورصفائی کی طرف توجہ کم ہے وہاں کثرت سے لوگ اس مرض میں مبتلا ہوتے ہیں ۔ مریض کی نجاست پر مکھیاں بیٹھ کر جراثیم کو تندرست افراد کی خوراک تک لےجانے کا ذریعہ بنتی ہیں ۔ اجابت سے فارغ ہونے کے بعد ہاتھوں کی صفائی اگر اچھی طرح نہ کی جاۓتو ہاتھوں کو لگے ہوۓجراشیم دوسروں تک جا کر بیماری پیدا کرنے کاسبب بن جاتے ہیں ۔

اسباب:

اس بیماری کا سبب Shigella نامی جرثومہ کا تعد یہ ہے ۔ یہ جراثیم چارطرح کے ہو تے ہیں ۔اور سبھی بیماری کا سبب بنتے ہیں ۔ان جراثیم کے نام درجہ ذیل ہیں ۔

Shigella Dysenteriae

Shigella Flexneri

Shigella Boydil

Shigella Sonnei

بدن کی قوت مدافعت کا کمزور ہونا ، عدم صفائی ، گندے اور گنجان علاقوں میں رہائش ، غذائی بے اعتدالی ، پانی میں آلودگی کا شامل ہونا اس کے معاون اسباب ہیں ۔

ماهیت :

اس مرض میں بڑی آنتیں متورم ہو جاتی ہیں ۔ بعض اوقات چھوٹی آنتوں کا زیریں حصہ بھی متاثر ہو جا تا ہے ۔ جب تنظیر نظری  Endoscopy کے ذریہ آنتوں کا معائنہ کیا جا تا ہے تو متاثر آنتوں کی غشا مخاطی سرخ دکھائی دیتی ہے اور ور ید یں غیر واضح ہوتی ہیں اور بعض اوقات زخم ( Ulcer ) بن جاتے ہیں ۔

علامات:

جراشیمی پیچش کی علامات سب مریضوں میں یکساں طور پر نہیں ہوتی مختلف مریضوں میں جراثیمی تعد یہ کی نوعیت کے اعتبار سے مختلف علامات پائی جاتی ہیں ۔

اگر Shigella Sonnies کا تعد یہ ہے تو اس میں علامات معمولی قسم کی ہوتی ہیں ۔ 24 گھنٹے میں 10 – 8 تک اسہال آتے ہیں ۔ مروڑ براۓنام ہوتا ہے اور بخار بالکل نہیں ہوتا بچے اس مرض مین زیادہ مبتلا ہوتے ہیں ۔

اگر Shigella Flexner کا تعد یہ ہے تو اس میں علامات نسبتا شدید ہوتی ہیں اس میں اسہال کی تعداد زیادہ ہوتی ہے اور براز کے ساتھ خون بھی خارج ہوتا ہے اور Shigella Boydiiکا تعد یہ شاد و ناذر ہوتا ہے اور تعد یہ ہونے کی صورت میں علامات Shigella Flexner کے علامات جیسی ہوتی ہے ۔

اگر Shigella dysenteriae کا تعد یہ ہے تو یہ سب سے خطرناک اور مہلک قسم کا تعد یہ ہے ۔ اس میں مریض کے پیٹ میں شدید درد ہوتا ہے اور بار بار مروڑ کے ساتھ ساتھ خونی دست آتے ہیں اور کپکپی کے ساتھ تیز بخار ہو جاتا ہے۔ اس میں دستوں کی تعداد 50 – 40 تک پہنچ جاتی ہے ۔ جسم میں مائیت ورطور بات کی کمی پیٹ اور آنکھیں اندرکوہنس جاتی ہیں ۔نبض ضعیف بطی ہو جاتی ہے ۔ ضغط الدم ( B P ) کم ہو جا تا ہے، قلب کے متاثر ہونے کی وجہ سے موت بھی واقع ہو جاتی ہے ۔

تفتیشInvestigation

براز کی جانچstool culture

خون کی جانچBlood Test

عوارض ( Complications )

جسم میں پانی اور نمکیات کی کمیDehydration سقوط کلیہ Renal Failure    ہوسکتا ہے ۔ ضغط الدم ضعیف (. Low B . P )

اصول علاج و تدابیر:

( ۱) پانی اور نمکیات کی کمی کو دور کرنے کے لئے بذریعہ ور ید نمک یا   Glucose ملا ہوا آب مقطر داخل کرتے ہیں ۔

( 2) شروع میں دافع اسہال (  Anti Diarrhoeal drugs ) دوانہیں دینی چاہئے جب تک معدہ سے فاسد مواد کا اچھی طرح تنقیہ ہو جاتے ۔

( ۳ ) مرض کی خفیف صورتوں میں قابضات و حابسات ابتدا میں نہیں دینا چاہئے ۔ مزلق وملین مثلا روغن بیدانجیر ، اسپغول سے آنتوں کو صاف کرائیں اس کے بعدمسکن امعاء وحابسات و قابضات کا استعمال کرائیں۔

 ( ۱ ) قرص مالتی بسنت   ۱عدد ،معجون سنگ دانہ6 گرام، مرغ اول عقب آں ،لعاب بہدانہ ۴   گرام ، تخم بارتنگ۴ گرام ، ریشیہ خطمی۴ گرام ،بیلگری ۴ گرام ، تخم کنوچہ۴ گرام ۔

در آب جو جوشانید و صاف نموده وشربت انجیار  20 mlحل کرده بنوشند یح و شام ۔یعنی پہلے قرص مالتی بسنت ومعجون سنگ دانہ کھلائیں اور اس کے بعد مفرد ادویہ کو پانی میں جوش دیں پھر مل چھان کر اس میں شربت انجبار ۲۰ملی لیٹر کا ضافہ کر کےصبح و شام پائیں ۔

جوارش انارین6 gm بعد غذائین۔

انوشدار ولولوی ہمراہ عرق گلاب صبحشام

مفرح شیخ الرئیس۲ گرام سہ پہر

حب پیش  ۱  عدد بوقت خواب

غذا میں مونگ کی دال کی کھچڑی ، سا گودانہ اور خشک چاول دہی کے ساتھ استعمال کرائیں ۔ آرام ہونے کے بعد بھی چند روز ہلکی اور زودہضم غذاد یں ۔ بادی اورثقل غذاؤں سے پر ہیز کرائیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں