ڈبل میوٹینٹ کرونا وائرس: بھارت میں ڈبل میوٹینٹ کرونا وائرس کی نئی قسم کتنی خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔

ڈبل میوٹینٹ کرونا وائرس: بھارت میں ڈبل میوٹینٹ کرونا وائرس کی نئی قسم کتنی خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔

Dubble mutent corona virus
Dubble mutent corona virus

 
بھارت میں کیے گئے کرونا وائرسCoronavirus کے ٹیسٹ کے نمونوں سے ایک نئی قسم کا پتہ چلا ہے جس کا نام ڈبل میوٹینٹ رکھا گیا ہے۔اس میں در اصل دو الگ  الگ وائرس مل کر کے تیسرے وائرس کی شکل لے لیتی ہے۔اب ہندوستان کے سائنسدان یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ ڈبل میوٹینٹ Dubble mutent کرونا وائرس کتنا خطرناک ہے اور کیا جو ویکسین ہم آج لگا رہے ہیں وہ ویکسین اس کرونا وائرس کی قسم پر اثر انداز ہوتی ہے یا نہیں۔

 

ڈبل میوٹینٹ Dubble mutent کرونا وائرس آخر ہے کیا ۔

دوستو وائرس چاہے جس بھی قسم کا ہو وہ ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی شکل بھی تبدیل کرنا جانتا ہے۔شکل تبدیل کرنے کا یہ عمل عام طور پر خطرناک نہیں ہوتا ہے اور یہ وائرس کے اپنے رویے کو متاثر نہیں کرتے ہیں۔مگر کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وائرس کے پروٹین کی شکل تبدیل ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ وائرس انسانی خلیوں میں بہت آسانی سے داخل ہو جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس قسم کے وائرس زیادہ خطرناک ثابت ہو تےہیں ۔ اور ایک جسم سے دوسرے جسم میں پھیلنے کی کی صلاحیت پہلے سے زیادہ ہو جاتی ہے،اس میں سب سے بڑی مشکل یہ ہوتی ہے کہ اس وائرس پر ویکسین بہت کم اثر کرتی ہے۔

 

ویکسین ہمیں نظام تنفس Respiratory system میں بیماریاں پھیلانے والے وائرس سے بہت حد تک محفوظ رکھتی ہے۔ہمارے جسم میں ویکسین کی مدد سے قوت مدافعت  immunity آجاتی اور اس وائرس کی اینٹی باڈیز ہمارے جسم میں بننےشروع ہو جاتے ہیں۔

دوستو تو سب سے اچھی ویکسین وہ ہوتی ہے جو وائرس کو غیر مؤثر کر دے اور اس کی بنائی ہوئی اینٹی باڈیز اس وائرس کو کو ہمارے جسم کے خلیوں میں داخل ہونے سے روکتی ہے۔بھارتی حکومت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کی ریاست مہاراشٹر سے لے گی کرونا وائرس کے نمونوں کا جب جائزہ لیا گیا تو ہم کو پتہ چلا کہ پچھلے سال دسمبر کے مقابلے میں وائرس کے پھیلاو میں بہت  اضافہ ہوا ہے۔

 

بھارت کی وزارت صحت نے ایک دوسرے بیان میں کہا ہے کہ اس طرح کے ڈبل میوٹنٹ وائرس انسانی جسم کی قوت مدافعت سے بچ کر نکلنے میں ماہر ہوتے ہیں اور یہ بیماری پ زیادہ  پھیلنے کی طاقت رکھتا ہے۔


Dubble mutent corona virus
Dubble mutent corona virus


لوزیانہ سٹیٹ یونیورسٹی ہیلتھ سائنسز نے کہا ہے کہ ” ای 484 کیوں “اور” ای 484 کے“ایک ہی جیسی قسم کے وائرس ہیں ۔” ای 484 کے “وائرس کو جنوبی افریقہ اور برازیل میں بھی پایا گیا ہے اور یہ بہت بار آزاد طور پر پر دیکھا گیا ہے۔ایک وائرس اگر اپنی شکل کو بار بار تبدیل کرے تو وہ تشویشناک بات سمجھی جاتی ہے۔

بھارت میں جو ڈبل میوٹینٹ Dubble mutent وائرس ملا ہے وہ دراصل “ال 452 آر”ہے جو پہلے امریکہ میں ملا تھا۔

 

کیا ہم کو اس نئی قسم سے پریشان ہونے کی ضرورت ہے

اگر وائرس اپنی جینیاتی شکل میں تبدیلی کرنے میں کامیاب ہوجائے تو وہ بہت آسانی سے لوگوں کو بیمار کرتا ہے اور اگر اس آدمی میں اینٹی باڈیز پہلے سے بنی ہیں تب بھی وہ اس کو بیمار کر سکتا ہے۔اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ایک بار جس آدمی کو کرونا وائرس ہو گیا ہو  تو اس کا قوی امکان ہے کہ نیا وائرس اسکو بھی بیمار کر سکتا ہے۔

سائنسدان یہ سمجھتے ہیں کہ ایسے لوگ جن کو پہلے کرونا ہو گیا ہے اور وہ اب صحت یاب ہو چکے ہیں یا پھر ایسے بھی کہہ سکتے ہیں کہ جن لوگوں نے ویکسین حاصل کر لی ہے اگر وہ دوبارہ کرونا وائرس کا شکار ہو جائیں تو ان میں کم خطرناک علامات ظاہر ہوں گی اور اس بیماری کی شدت کم ہو گئی۔

WhatsApp Group Join Now
Telegram Group Join Now
Instagram Group Join Now

اپنا تبصرہ بھیجیں