اللہ کی مدد کب اور کیسے آتی ہے؟ قرآن و سنت کی روشنی میں

متن کا سائز

موجودہ دور میں مسلمان انفرادی اور اجتماعی طور پر گوناگوں پریشانیوں، انتشار اور زوال کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے ہر باشعور ذہن میں یہ سوال بار بار ابھرتا ہے کہ “اللہ کی مدد کب آئے گی؟”۔ جامع مسجد گھٹ کے منبر سے شیخ عبدالحفیظ صاحب نے اپنے جمعہ کے خطبے میں سورۃ محمد کی آیت کی روشنی میں اس اہم اور بنیادی سوال کا تفصیلی، مدلل اور ایمان افروز جواب فراہم کیا ہے۔ اللہ تعالی کی نصرت و مدد کسی اتفاقی امر کے تحت نازل نہیں ہوتی، بلکہ اس کے لیے کچھ اٹل الٰہی اصول اور شرائط مقرر ہیں جنہیں سمجھنا اور اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنا ہر مومن کے لیے ناگزیر ہے۔

‘مدد’ اور ‘نصرت’ کا علمی و قرآنی فرق

عربی زبان اور قرآنی اسلوب میں ‘مدد’ اور ‘نصرت’ دو مختلف پہلوؤں کو ظاہر کرتے ہیں۔ سورۃ الانفال میں غزوہ بدر کے موقع پر ایک ہزار فرشتوں کا پیہم بھیجا جانا ‘مدد’ کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے، جو دراصل کسی مقصد تک پہنچنے کے لیے ایک “سبب” کی حیثیت رکھتا ہے۔ دوسری طرف، ‘نصرت’ اس نتیجے اور کامیابی کو کہتے ہیں جو اس سبب کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، یعنی “حصولِ مطلوب”۔ پس اللہ تعالی اپنے بندوں کو اسباب (مدد) عطا فرماتا ہے تاکہ انہیں حتمی نصرت و فتح میسر آ سکے۔

The Journey from Unrest to Tranquility
The Journey from Unrest to Tranquility

آزمائشیں اور مصائب: کیا یہ اللہ کی ناراضگی کی علامت ہیں؟

انسان پر آنے والی تکالیف، بیماریاں اور مصائب لازمی طور پر اللہ تعالی کی ناراضگی یا سزا کا نتیجہ نہیں ہوتیں، بلکہ ان میں انسان کے لیے خیر اور درجات کی بلندی کا پہلو پوشیدہ ہوتا ہے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ سب سے سخت آزمائش کن لوگوں پر آتی ہے، تو آپؐ نے فرمایا کہ انبیاء علیہم السلام پر، پھر جو ایمان و تقویٰ میں ان کے قریب تر ہوں۔

آزمائش کے ذریعے مومن کے گناہوں کی صفائی ہوتی ہے، یہاں تک کہ وہ زمین پر اس حال میں چلتا ہے کہ اس پر کوئی خطا باقی نہیں رہتی۔ قرآنِ پاک میں “تمحیص” کا لفظ استعمال ہوا ہے، جس کا مفہوم رسی کو رگڑ کر صاف کرنے یا سونے کو آگ میں تپا کر اس کی ملاوٹ دور کرنے سے مشابہ ہے۔

ترمذی شریف کی حدیث میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بڑا اجرت و ثواب بڑی آزمائش کے ساتھ منسلک ہے۔ اللہ تعالی جس قوم یا بندے سے محبت فرماتا ہے، اسے آزمائش میں مبتلا کرتا ہے؛ اگر بندہ اللہ کے فیصلے پر راضی رہے تو اللہ بھی اس سے راضی ہو جاتا ہے، اور اگر وہ چیخ و پکار اور ناراضگی ظاہر کرے تو اللہ بھی اس سے ناراض ہوتا ہے۔

درست اسلامی نظریہ اور رضائے الٰہی کا مفہوم

ایک مسلمان کا فکری کانسیپٹ بالکل واضح ہونا چاہیے کہ اسے ملنے والی ہر نعمت یا کامیابی محض اس کی ذاتی قابلیت یا محنت کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ کا فضل اور اس کی طرف سے آزمائش ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر کوئی نعمت چھن جائے تو اس پر صبر کرنا چاہیے۔

اس کی ایک عملی مثال یوں سمجھی جا سکتی ہے کہ ایک شخص بیرونِ ملک لاکھوں کی ملازمت کے لیے جا رہا تھا اور ایئرپورٹ پر کسی چور نے اس کے اہم دستاویزات چُرا لیے۔ وہ شخص شروع میں سخت پریشان اور غصے میں رہا، مگر شام کو جب یہ خبر ملی کہ جس جہاز میں اسے سوار ہونا تھا وہ حادثے کا شکار ہو گیا ہے، تو اس کا رویہ بدل گیا۔ بظاہر ہونے والا ایک چھوٹا نقصان اس کی زندگی کی حفاظت کا ذریعہ بن گیا۔

تاریخ میں انبیاء کرام کی مقدس زندگیاں عظیم آزمائشوں سے بھری پڑی ہیں؛ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنے کمسن بچے اور زوجہ کو صحرا میں چھوڑنے اور پھر بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم ملا، حضرت یوسف علیہ السلام کنویں کی گہرائی اور قید خانے کی سختیوں سے گزر کر اقتدار تک پہنچے، اور سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے دین کی خاطر بے شمار تکالیف برداشت کیں۔

اسلامی سوالات سے علم بڑھائیں 📖

اللہ کی مدد اور نصرت نازل ہونے کے بنیادی شرائط

آج امتِ مسلمہ کا ہر خطے میں زوال اور انتشار کا شکار ہونا اس بات کی علامت ہے کہ ہم نصرتِ الٰہی کے بنیادی شرائط کو بھول چکے ہیں۔ اللہ کی نصرت اوپر سے نازل ہوتی ہے اور اس کے حصول کے لیے درج ذیل شرائط کی پاسداری ضروری ہے:

اللہ کے دین کی حفاظت اور نصرت

سورۃ محمد میں ارشادِ باری تعالی ہے کہ اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جما دے گا۔ نیز حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں پیارے نبیؐ کا فرمان ہے کہ اللہ کی حفاظت کر، اللہ تیری حفاظت کرے گا۔

اللہ کی حفاظت اور نصرت سے مراد اللہ کے دین کی حفاظت، اقامتِ دین اور دین کی سرفرازی کے لیے جدوجہد کرنا ہے۔ جب مسلمان اپنا مال، وقت، صلاحیتیں اور اثر و رسوخ دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے وقف کرتے ہیں، تو اللہ تعالی کی غیبی نصرت ان کے شاملِ حال ہوتی ہے۔

کمزور اور بے سہارا بندوں کی مدد

نصرتِ الٰہی کا دوسرا بڑا ذریعہ معاشرے کے کمزور، مسکین اور حاجت مند بندوں کا سہارا بننا ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام جب فرعون کے خوف سے مدین پہنچے اور انہوں نے کنویں پر دو کمزور لڑکیوں کی بکریاں پلانے میں مدد کی، پھر اللہ تعالی سے دعا کی، تو اس کمزور کی مدد کے صدقے اللہ تعالی نے ان کا خوف دور کر دیا، انہیں رہنے کو گھر، کھانا اور زوجہ عطا فرمائی۔

حضرت مصعب بن سعد / سعد رضی اللہ عنہ کی حدیث میں پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا کہ تم کو رزق اور نصرت صرف تمہارے درمیان موجود کمزوروں کے صدقے میں دی جاتی ہے۔

احکامِ الٰہی کی بلا چون و چرا اطاعت اور سود سے پرہیز

اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کو بغیر کسی شک و شبہ یا عقلی حجت کے تسلیم کرنا نصرت کی بنیادی شرط ہے۔

جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو سمندر پر لاٹھی مارنے کا حکم ہوا تو انہوں نے کسی سائنسی منطق کو تلاش کیے بغیر تعمیل کی، اور سمندر کے اندر خشک راستہ بن گیا۔ اسی طرح ہجرتِ مدینہ کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نبی کریمؐ کے بستر پر بے خوف ہو کر سونے کے حکم کو کامل اطاعت کے ساتھ قبول کیا۔

اس کے برعکس، اگر ہم اللہ سے اعلانِ جنگ یعنی ‘سود’ کھانے کی روش پر قائم رہیں اور نصرت کی امید رکھیں، تو یہ ممکن نہیں۔ تمام گناہوں بالخصوص سود سے بچنا نصرتِ الٰہی کے نزول کے لیے شرطِ اول ہے۔

دنیا اور آخرت میں نصرت کا الٰہی وعدہ

اللہ تعالی کا نصرت کا وعدہ صرف آخرت تک محدود نہیں ہے بلکہ دنیا میں بھی مومنین کی مدد کا صریح وعدہ موجود ہے۔ سورۃ غافر (المؤمن) میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ بلاشبہ ہم اپنے رسولوں اور ایمان والوں کی مدد لازماً دنیا کی زندگی میں بھی کرتے ہیں اور اس دن بھی کریں گے جب گواہ کھڑے ہوں گے۔

اہم اسباق

  • مدد اور نصرت کا فرق: مدد اسباب کی فراہمی ہے جبکہ نصرت مطلوبہ کامیابی اور فتح کو کہتے ہیں۔
  • آزمائش کا مثبت پہلو: پریشانیاں اور بیماریاں لازمی طور پر سزا نہیں ہوتیں بلکہ بندے کی پاکیزگی اور درجات کی بلندی کا ذریعہ بنتی ہیں۔
  • رضائے الٰہی کی اہمیت: آزمائش پر صبر اور رضا اللہ کی خوشنودی لاتی ہے، جبکہ چیخ و پکار اور ناراضگی اللہ کے غضب کا باعث بنتی ہے۔
  • نعمتوں کا اسلامی نقطہ نظر: انسان کو ملنے والی ہر نعمت اللہ کی طرف سے آزمائش ہے، اپنی صلاحیت یا محنت پر غرور نہیں کرنا چاہیے۔
  • اقامتِ دین کی فکر: اللہ کے دین کی سربلندی اور نصرت کے لیے کوششیں کرنا نصرتِ الٰہی کا پہلا شرط ہے۔
  • کمزوروں کا سہارا بننا: غریب اور کمزور لوگوں کی مدد کرنا رزق کی کشادگی اور غیبی نصرت کا بڑا سبب ہے۔
  • کامل اطاعت و پرہیزگاری: اللہ کے تمام احکامات پر بغیر شکوک و شبہات کے عمل کرنا اور سود جیسے مہلک گناہ سے بچنا نصرت کو واجب کرتا ہے۔

خلاصہ

خلاصہ کلام یہ ہے کہ اللہ کی مدد اور نصرت کوئی اتفاقی واقعہ نہیں بلکہ الٰہی قوانین اور شرائط سے وابستہ ہے۔ جب امتِ مسلمہ اپنی زندگیوں میں اقامتِ دین کی فکر پیدا کرے گی، معاشرے کے کمزور طبقے کی دستگیری کرے گی، سود اور معاصی سے کنارہ کش ہو کر احکامِ الٰہی پر کامل یقین کے ساتھ عمل پیرا ہوگی، تو اللہ تعالی دنیا اور آخرت دونوں میں نصرت و سرفرازی عطا فرمائے گا۔ اللہ تعالی ہمیں ان شرائط پر پورا اترنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اختتامی نوٹ و انتساب:

حاشیہ: یہ مضمون ۲۵ ستمبر ۲۰۲۶ء کو جامع مسجد گھٹ میں شیخ عبدالحفیظ صاحب کے ارشاد فرمودہ جمعہ کے خطبے سے اخذ و ترتیب دیا گیا ہے۔

تحریر: ڈاکٹر توصیف اسلم وانی

rajdawani

مصنف

Staff writer and editorial contributor at urdupoint.in.

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کریں