آملہ/ Indian gooseberry/ Phyllanthus emblica

آملہIndian gooseberry آخر اتنا ضروری کیوں ہے۔آملہ کے ہماری صحت پر اثرات

Indian gooseberry
آملہ Indian gooseberryکو مختلف زبانوں میں مختلف ناموں سے پکارا جا تا ہے ۔سنسکرت زبان میں شری پھل، امرت پھل،کول پھل ،رہاتری پھل ،جاتی پھل و دیادھارا وغیرہ ہندی اور گجراتی زبان میں آنبلہ، فارسی میں آملہ ،عربی میں آملج، سندھی میں آ نورا ،لاطینی میں فائی نیتھس ایمبلی کا اور انگریزی میں ایمبلک مائی ٹو بلن (Emblic Mytoblan) کہتے ہیں۔

یہ بہت مشہور درخت ہے جو برصغیر کے اکثر گرم علاقوں میں پیدا ہوتا ہے ۔ کوہ ہمالیہ میں جموں وکشمیر سے مشرق کی جانب اور نیچے سری لنکا تک تقریبا ہر جگہ ملتا ہے۔ اس کا درخت تیس سے چالیس فٹ تک اونچا اور گولائی میں تین سے چھ فٹ تک موٹا ہوتا ہے۔لیکن بعض درخت دس فٹ گولائی تک بھی دیکھنے میں آۓ ہیں ۔

آپکو یہ بھی پسند آسکتا ہے

آملہ کا  درخت مضبوط پھیلا ہوا اور خوبصورت بھی ہوتا ہے ۔ آملہ کی چھال تقریبا ڈیڑھ انچ موٹی اور بیرونی جھلی بھورے رنگ کی رہتی ہے ۔ اس پر چھوٹے بڑے داغ بہت ہوتے ہیں لیکن یہ اندر کی طرف سرخ رنگت رکھتی ہے۔ آملہ کی لکڑی سرخ اوربہت سخت ہوتی ہے۔ اگر آملہ کے ورخت کو کاٹ کر رکھ دیا جاۓتو اکثر اسکی لکڑی پھٹ جایا کرتی ہے، اس لیے عمارت اور دوسرے سامان بنانے کے لیے ٹھیک نہیں مانی جاتی ہے۔

آملہ کے پتے املی کے پتوں کی طرح چھوٹے اور سبز اور پھول سنہری مائل زرد رنگ کے گچھوں میں ہواکرتے ہیں ۔ اس کا تازہ پھل بیر کی شکل کی طرحہ گول اور خوبصورت ہوتا ہے اور پھل کے اندر مثلث شکل کی سفید گٹھلی بھی ہوتی ہے۔

آملہ دوقسم کا ہوتا ہے، ایک جنگلی دوسرا پیوندی آملہ ۔ جنگلی یا پہاڑی آ ملہ  کافی چھوٹے ہوتاےہیں، جن کا وزن تقریبا چار ماشے ہوتا ہے اور پیوندی والے بڑے ہوتے ہیں جن کا وزن چھ تولے ہوتا ہے۔ پیوندی آملوں میں بنارس اور بریلی کے آملے کافی زیادہ مشہور ہیں ۔ دودھ میں بھگو کر خشک کیے ہوۓآملے کو شیر آملہ  کے نام  سے جانا جاتا ہے۔

 طب کے مطابق اس کے پھل میں گیلک ایسڈ، ٹینک ایسڈ ،گوند اور الیسومن وغیرہ اجزا پائے جاتے ہیں ۔ آملوں کا اچار بہت اچھا بنتا ہے اور مر بہ بھی  بنایا جاتا ہے۔ یہ دنیا میں وٹامن سی کا سب سے بڑا خزانہ ہے ۔ وٹامن سی کی کمی والےمریضوں کو آ ملے کا استعمال ضرور کرنا چاہیے ۔

آملے کا شور بہ پی کر اگر بعد میں پانی پیا جاۓ تو وہ بے حد مزیدار لگتا ہے اس قدر کہ بے تحاشہ پانی پینے کو جی چاہتا ہے۔ ذائقے میں کھٹاس اور مٹھاس ہونے کی وجہ سے لوگ اسے زیادہ استعمال نہیں کرتے ۔

آملے میں فولاد بہت ذیادہ مقدار میں پایا جاتا ہے۔ آملہ جزو بدن بن جانے کی سلاحیت رکھنے والے فولاد کا ایک اچھا ذریعہ ہے۔ فولاد کی سبھی قدرتی یا مصنوعی شکلیں ہاضمے میں خرابی اور آنتوں میں سوزش پیدا کرتی لیکن آ ملے کی خصوصیت یہ ہے کہ صالح خون کی پیدائش کے لیے بہترین فولا دفراہم کرتا ہے اور پیٹ کو خراب بھی نہیں ہونے دیتا ہے۔

آملہ قابض ہے اس کی یہ خامی ہم وزن ہرڑ ملا کر دور ہو جاتی ہے۔ فولا د اور وٹامن سی کے حسین امتزاج نے فولاد کے گرم مزاج کی اصلاح کر کے اس کی تاثیر سرد اور خشک کی جا سکتی  ہے۔

آملہ کی طبی خواص اور آملہ سے علاج

آملے کے تازہ پھل کی تاثیر سرد خشک اور پیشاب آور ملین ہوا کرتی ہے۔ خشک پھل  کافی قابض ہوا کرتے ہیں ۔

طب کی ایک بہت مشہور کتاب ’’ بھاؤ پر کاش‘‘ میں لکھا ہے کہ آملہ ہرڑ کے مطابق اوصاف رکھتا ہے لیکن اس میں ایک خاص بات ہے کہ یہ کت پت یعنی جسم کے کسی بھی حصے سے نکلنے والے خون میں نافع  ہوا کرتاہے ۔ مردانہ قوت بکثرت پیدا کرتا اور کیمیا اثر ہے۔

دل کے مرض میں آملہ بے حد مفید ہے ۔ دل کمزور ہو تو آملے کا مربہ استعال کر یں ،آپ کی کمزوریاں  بہت جلد دور ہو جائیں گی ۔

نکسیر، ہاتھ پاؤں کی جلن اور جسمانی حدت میں آملے کا استعمال  سے دور ہو جاتی  ہے۔ بلڈ پریشر کے لیے اس سے بہتر کوئی دوانہیں ۔ کھٹے ڈکار آ تے ہوں، جی متلاتا ہو ،قے آتی ہو یا بدہضمی اور اسہال ہوتو آملہ بہترین دوا ہے ۔

نظر کی کمزوری، بال گرنا ،قبل از وقت بال سفید ہوجانا اور گنجے پن کا بہترین علاج آملہ ہے ۔ سر درد ،سر چکرانا،دماغی کمزوری، نسیان اور سر کے تمام تر امراض کے لیے آملہ بہترین دوا ہے۔ زیادہ پیاس لگنا اور قے آنا آملہ چوستے رہنے سے درست ہو جا تا ہے۔ بچہ دانی سے خون آ تا ہو تو دن میں تین چار بار آملے کا سفوف پانی کے ساتھ کھلانے سےمرض دور ہو جا تا ہے ۔

پھیپھڑوں کے امراض آملہ کھاتے رہنے سے جلد درست ہو جاتے ہیں ۔ آملوں کو پانی میں ڈال کر رات بھر پڑا رہنے دیں پھر ان سے آ نکھیں دھوئیں تو آنکھوں کی لالی، جلن اور نظر کی کمزوری کو آرام آ جا تا ہے۔ تازہ آملے کوٹ کر کپڑے سے نچوڑ کر اس کارس خشک کر لیجئے اور یہ کا جل آ نکھوں میں لگاتے رہیے، آ نکھوں کے تمام امراض دور ہو جائیں گے۔

رات بھر بھیگے آملوں کے پانی سے سر دھویئے دماغی کمزوری اور سر چکرانا درست ہو جاۓگا اور بال ملائم اور نرم ہو جائیں گے ۔ آملوں کا سفوف منجن کی طرح انگلی سے ملا جاۓ تو دانتوں سے خون آنا، دانتوں کا میل، دانت کا درد اور دانتوں کے ہلنے میں آرام آ جا تا ہے۔ اگر چوٹ لگنے سے خون بند نہ ہوتا ہو تو میدے کے مانند آملے کا سفوف کوٹ کر تیار کر لیجئے اور اسے زخم پر چھٹرک کر پٹی باند ھئے خون بند ہو جاۓگا۔ اس سفوف سے پھوڑےبھی جلد درست ہو جاتے ہیں۔

رحم کی جلن اور بیماریاں آملہ کے رس میں مصری ملا کر پیتے رہنے سے ختم ہو جاتی ہیں ۔ مثانے کی گرمی،ہاتھ پاؤں کی جلن ،پیشاب کی جلن، پیشاب رک رک کر یا کم آ نا ،نکسیر اور سوزاک وغیر و کوقطعی آرام ملتا ہے۔ گنجا پن آملہ کھانے سے دور ہو جا تا ہے۔

جسم میں چونے (Calcium) کا حصہ کم ہو جا تا ہے تو اس کمی کو یہ رسائن بہت جلدپورا کر دیتی ہے۔چنانچہ کمز ور اور ناتواں بچوں کو جنہیں سو کھے کا مرض ہو یا وہ آۓدن بیمار رہتے ہوں اس کا استعمال کرایا جائے تو ان کی ہڈیوں کو مضبوط کرتا ہے اور ایسے بچے جلد ہی اس کی بدولت صحت حاصل کر لیتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں